
تحریر: کامریڈ قاضی
25 جنوری ایک دن نہیں، ایک تاریخ نہیں بلکہ بلوچ کی اجتماعی یاد ہے۔ 2014 میں اسی دن پاکستان کی خونخوار فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں شہید ہونے والے 150 سے زائد افراد کی لاشیں توتک میں ملیں، جو پہلے سے ریاستی ٹارچر سیلوں میں قید تھے۔ اسی دن کی مناسبت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس دن کو بلوچ نسل کشی کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچ عوام سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہم اس دن ریاست کو یاد دلاتے رہیں گے کہ آپ نے ہماری کتنی نسلیں اپنے توپوں سے اڑا دیں۔ ہم آپ کو بتائیں گے کہ ہم ان اجتماعی قبروں کے وارث ہیں، ہم اپنے شہیدوں کے وارث ہیں، اور بلوچ نہ اپنے شہیدوں کو بھولے گا اور نہ ہی آپ کو بھلانے دے گا۔
یہ دن بلوچ کی آواز ہے، یہ دن دنیا کو بتاتا ہے کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ دن بلوچ کو بتاتا ہے کہ آپ کو مارا جا رہا ہے۔ یہ دن دنیا میں انسانی حقوق کے علمبرداروں سے سوال کرتا ہے کہ کیا انسانی حقوق صرف کسی خاص گروہ کے لیے ہیں یا پوری انسانیت کے لیے؟
یہ دن بلوچستان کی لہولہان سرزمین کو دنیا کے سامنے رکھتا ہے کہ دنیا کی آنکھیں بلوچوں کی مال و دولت پر ہیں مگر بلوچ کی حالت پر نہیں۔
یہ دن چین سے سوال کرتا ہے کہ کیا واقعی یہ وہی ماؤ کی چین ہے یا وہ ماؤ بدل گیا ہے جو غریبوں اور انسانیت کے بارے میں سوچتا تھا، مگر آج وہی ماؤ کی چین بلوچستان میں بلوچ نسل کشی میں پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ دن ہم سب کو اجتماعی جدوجہد کا درس دیتا ہے کہ ہم غلام ہیں اور ہمیں آزادی چاہیے، جس کے آنے سے یہاں امن آ سکتا ہے، ورنہ یہ نسل کشی یونہی جاری رہے گی۔
یہ دن ہمیں ان لاپتہ افراد کے بارے میں بتاتا ہے جنہوں نے ریاستی ٹارچر سیلوں میں تشدد کے دوران دم توڑا۔
یہ دن ہمیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہے جن کی لاشیں ویرانوں میں پڑی رہیں اور ہم خاموش رہے۔ آج ہم اسی حالت اور درد سے گزر رہے ہیں جس سے پہلے ان کے خاندان گزر چکے ہیں۔
یہ دن ان بچوں کی یاد دلاتا ہے جو ریاستی ڈرون حملوں میں شہید ہوئے، جو جینا چاہتے تھے مگر جی نہ سکے۔
یہ دن ان طلبہ کی یاد دلاتا ہے جو پڑھ لکھ کر کچھ بننے کے خواب دیکھ رہے تھے، مگر ریاست نے ان کے خوابوں سمیت انہیں دفن کر دیا۔
یہ دن ان ماؤں کے جگر کے ٹکڑوں کی یاد دلاتا ہے جنہیں ماؤں نے نو مہینے اپنے پیٹ میں رکھا، درد سہے، خود نہ کھایا مگر بچوں کو کھلایا، مگر ریاست نے ان ارمانوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔
یہ دن شہید حیات کی دردناک کہانی سناتا ہے کہ کس طرح ریاست نے ان کی ماں کی آنکھوں کے سامنے ماں کا دوپٹہ کھینچ کر حیات کی آنکھوں پر باندھا، انہیں فاصلے پر لے جا کر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔
یہ دن ہمیں توتک کی داستان سناتا ہے کہ کس طرح ایک خوشحال علاقے کو ریاست نے چند ہی گھنٹوں میں خون میں نہلا دیا اور سینکڑوں مسخ شدہ لاشیں پہاڑوں میں پھینک دیں۔
یہ دن ہمیں ملک ناز کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ان کا قتل کیا گیا۔
یہ دن ہمیں کربلا جیسے واقعات کی یاد دلاتا ہے اور ان ڈرائیوروں کو یاد کرتا ہے جو دو وقت کی روٹی کے لیے بارڈر گئے تھے، مگر پاکستانی فوج نے ان کی گاڑیاں چھین کر رمضان کے مہینے میں انہیں پیاسا اور بھوکا چاغی کے گرم صحرا میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا، جہاں وہ تڑپ تڑپ کر مر گئے۔
یہ دن ہمیں ان ماؤں اور بہنوں کے بارے میں بتاتا ہے جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ریاستی دفاتر اور پریس کلبوں کے چکر لگاتی ہیں، سالہا سال سے مسنگ پرسنز کے کیمپوں میں بیٹھی ہیں، مگر اس کے باوجود ریاست فیک انکاؤنٹر میں ان کی لاشیں ویرانوں میں پھینک دیتی ہے۔
یہ دن ہمیں ان بچوں کے بارے میں بتاتا ہے جنہوں نے اپنے والد کو دیکھا تک نہیں کیونکہ ریاستی ظلم نے انہیں شہید کر دیا۔
یہ دن ہمیں مشکے کے پانچ دلہوں کی یاد دلاتا ہے جنہیں شادی کے دوران اٹھا کر شہید کیا گیا، جن کی مائیں اور بہنیں ان کی خوشیوں میں تھیں اور ان کی دلہنیں نکاح سے پہلے بیوہ بن گئیں۔
یہ دن ہمیں لیاری کی یاد دلاتا ہے جہاں بلوچ نوجوان کھیلوں اور کتابوں میں مصروف تھے، مگر ریاست نے گینگ وار کے نام پر گروہ بنا کر ان کی قتل و غارت کی، اور پورے کراچی میں بلوچوں کی بوری بند لاشیں کبھی ویران گلیوں میں اور کبھی نالوں میں ملتی رہیں۔
یہ دن ہمیں ان بلوچ نوجوانوں کے بارے میں بتاتا ہے جنہیں ریاستی حمایت یافتہ گروہوں نے نشے میں مبتلا کر کے ان کی زندگیاں برباد کر دیں۔
یہ دن ہمیں ان بے گناہ لوگوں کے بارے میں بتاتا ہے جنہیں ریاست نے سازشوں کے ذریعے کبھی قبائلی، کبھی مذہبی، اور کبھی دہشت گردی کے بم دھماکوں میں قتل کروا کر ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی۔
یہ دن ہمیں ریاستی فوج کے ان آپریشنز کے بارے میں بتاتا ہے جہاں کبھی بلوچوں کو مسلح تنظیموں سے جوڑ کر قتل کیا گیا، کبھی چرواہوں کو پہاڑوں میں مویشی چراتے ہوئے مار دیا گیا، اور کبھی گھروں پر بمباری کر کے قتل عام کیا گیا۔
یہ دن ہمیں ان بلوچ سیاسی رہنماؤں کی یاد دلاتا ہے جو بلوچ کے مستقبل اور شعور کے لیے کام کر رہے تھے، جنہیں گرفتار کر کے بعد میں مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں پھینک دیا گیا یا ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں قتل کروایا گیا۔
یہ دن ہمیں ہماری تاریخ کے بارے میں بتاتا ہے جسے ریاست مسخ کر رہی ہے اور ہمیں اپنی سرزمین سے جدا کر رہی ہے۔
یہ دن ہمیں جگاتا ہے کہ ہماری ساحل اور وسائل لوٹے جا رہے ہیں، ہمارے وسائل فروخت کیے جا رہے ہیں، چاہے وہ سیندک ہو، ریکوڈک، گوادر یا سوئی، سب ہم سے چھین لیے گئے ہیں۔
یہ دن ہمیں چاغی کی سرزمین کی یاد دلاتا ہے جہاں ریاست نے ایٹمی دھماکے کیے، سینکڑوں لوگ مارے گئے، سرسبز زمین کو ویرانی میں بدل دیا گیا۔
یہ دن ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اب لڑو، احتجاج کرو، اپنے لوگوں کو بچاؤ، خود کو بچاؤ۔ جب تک تمہیں تمہاری زمین نہیں ملتی، جدوجہد کرتے رہو، کرتے رہو۔
