نیدرلینڈز: بلوچ نیشنل موومنٹ کا ڈچ پارلیمنٹ کے ارکان سے رابطہ، بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور جی ایس پی پلس پر تشویش

نیدرلینڈز میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ایک وفد نے ڈچ پارلیمنٹ کے مختلف نمائندوں سے ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران بی این ایم وفد نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے ایک باضابطہ پٹیشن بھی جمع کرائی۔

بی این ایم وفد کی قیادت نیدرلینڈز چیپٹر کے صدر مہیم عبدالرحیم بلوچ نے کی۔ وفد میں پانک کے میڈیا کوآرڈینیٹر جمال بلوچ، نائب صدر وحید بلوچ، جنرل سیکرٹری دیدگ بلوچ، فنانس سیکرٹری بہار بلوچ، عابد بلوچ اور زوہرہ بلوچ شامل تھے۔ وفد کی جانب سے جمال بلوچ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بی این ایم وفد نے ڈچ پارلیمنٹ کے نمائندوں کو بتایا کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی جانب سے فوجی آپریشن، گھروں پر بمباری، ڈرون حملے اور جبری گمشدگیاں معمول بن چکی ہیں۔ وفد کے مطابق اب مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے افراد بھی نشانہ بن رہے ہیں۔

وفد نے نشاندہی کی کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، گل زادی بلوچ، بیبو بلوچ، بیبرگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ کو محض انسانی حقوق کی بات کرنے پر بغیر کسی قانونی جواز کے قید میں رکھا گیا ہے۔

بی این ایم وفد کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں اب تک خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

ملاقات کے دوران وفد نے پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے دیے گئے ’جی ایس پی پلس‘ اسٹیٹس پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ وفد کے مطابق جی ایس پی پلس اُن ممالک کے لیے مختص ہے جو انسانی حقوق، جمہوری اقدار اور بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کرتے ہوں، جبکہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں، طلبہ اور خواتین کی جبری گمشدگیاں ان اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

بی این ایم وفد نے ڈچ پارلیمنٹ کے نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ نیدرلینڈز اور پاکستان کے درمیان اسلحہ اور عسکری سازوسامان سے متعلق معاہدوں کا فوری جائزہ لیا جائے، کیونکہ نیدرلینڈز سے فراہم کردہ اسلحہ بلوچستان میں بلوچ سویلین آبادی کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ وفد نے اسلحہ جاتی معاہدوں کی منسوخی اور پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی سطح پر جوابدہ بنانے پر زور دیا۔

بی این ایم وفد نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ دینا نہ صرف ڈچ حکومت بلکہ یورپی یونین کی بھی بین الاقوامی ذمہ داری ہے، تاکہ اس خطے میں انصاف، مساوات اور انسانی وقار کو یقینی بنایا جا سکے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

جیونی: پاکستانی فورسز کیا کنٹانی میں محنت کشوں کے ٹھکانے نذرِ آتش

بدھ جنوری 21 , 2026
بلوچستان کے ضلع گوادر کے تحصیل جیونی کے علاقے کنٹانی میں پاکستانی فورسز نے کارروائی کے دوران تیل کے روزگار سے وابستہ محنت کشوں کے ٹھکانے نذرِ آتش کر دیے، جس کے نتیجے میں درجنوں خاندان شدید معاشی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ واقعے کے بعد متاثرہ مزدوروں نے […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ