
تحریر: مہروان مہرو
آج میں ایک ایسی ہستی کے لیے قلم اٹھا رہی ہوں کہ میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور روح لرز رہی ہے۔ کچھ نام صرف نام نہیں ہوتے، وہ تاریخ بن جاتے ہیں۔ شہید کمانڈر گنجل المعروف مزار جان بھی انہی ناموں میں سے ایک ہیں جو صرف لیاری کے نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کے ہیرو تھے۔
ہم بچپن میں سنا کرتے تھے کہ وہ ٹیوشن پڑھاتے تھے۔ ایک خاموش، خوش مزاج، بااخلاق انسان۔ مگر وقت نے انہیں صرف استاد نہیں رہنے دیا۔ جب لیاری میں امن کا جنازہ نکل چکا تھا، جب لوگ خوف کے مارے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے، تب گنجل جان دہشت گردی کے خلاف دیوار بن کر کھڑے ہوئے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر لوگ گھر چھوڑ دیں گے تو جائیں گے کہاں؟ اسی لیے وہ صرف اپنے خاندان نہیں، پوری بلوچ قوم کے بارے میں سوچتے تھے۔
2018 میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ وہ اس وقت موجود نہیں تھے، مگر ان کے بزرگ والد اور کئی رشتہ دار اٹھا لیے گئے۔ بزرگ والد پر ایسا تشدد کیا گیا کہ وہ ایک ٹانگ سے ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے۔ چند ماہ بعد خاندان کو چھوڑ دیا گیا، مگر جسم آزاد ہوئے، روحیں نہیں۔
یہ خبر جب گنجل جان تک پہنچی تو انہوں نے اسی دن گلزمینِ بلوچستان، بولان شریف کا رخ کیا۔ یوں ایک استاد، ایک بیٹا، ایک بھائی… ایک کمانڈر بن گیا۔
مزار جان کا خاندان آج بھی کراچی میں سادہ، خاموش اور غربت زدہ زندگی گزار رہا ہے۔ جب انسان اندر سے ٹوٹ جائے تو شہر کی روشنی بھی اندھیری لگتی ہے۔ سنگت آج بھی گنجل جان کی مسکراہٹ کو یاد کرتے ہیں۔
ایک غم ابھی ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا کہ دوسرا دروازہ کھٹکھٹا دیتا۔ ایک بھائی کوہِ مراد ڈیم میں ڈوب گیا۔ والدین نے اپنے ہاتھوں سے کفن پہنایا۔ گھر کے حالات دن بدن بگڑتے گئے۔ والدین بس ایک ہی نام لیتے تھے:
“کاش مزار جان ہوتا… ہمیں حوصلہ دیتا۔”
2022 میں نوشکی میں ایک بڑے لشکر کے ساتھ جھڑپ کی خبر آئی۔ بتایا گیا کہ کمانڈر نے اپنے ساتھیوں کو بحفاظت نکالا اور خود گلزمین کے لیے امر ہو گیا۔ مزار جان چند ساتھیوں سمیت شہید ہو چکے تھے۔
یہ خبر صرف خبر نہیں تھی، ایک قیامت تھی۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ دل میں بس ایک ہی خیال تھا:
آپ کو ابھی اور جینا تھا… مگر آپ نے موت کو زندگی پر ترجیح دی۔
وقت گزرتا گیا، مگر گھر اجڑتا گیا۔
2023 میں ان کی ایک بہن کینسر کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ دو چھوٹے بچے پیچھے رہ گئے۔ 2024 میں ایک اور بھائی بھی اسی بیماری میں چل بسے — وہی واحد سہارا، وہی مزدور، وہی امید۔
والد 2018 کے تشدد کے بعد سے بستر پر ہیں۔ چلنے سے معذور۔ بس سانس باقی ہے۔
2025 میں گنجل جان کے بھائی کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ صدمے میں بیمار ہو گئیں۔ کینسر نے آ گھیرا۔ غربت نے علاج چھین لیا۔ اور 9 جنوری 2026 کو وہ بھی اس دنیا سے چلی گئیں۔
یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں۔ یہ اس قوم کا نوحہ ہے جو شہیدوں کو سلام تو دیتی ہے، مگر اکثر ان کے گھروں کو بھول جاتی ہے۔
آج میں خود سے سوال کرتی ہوں: کیا لکھ دینا کافی ہے؟ نہیں۔ ہرگز نہیں۔
میں اپنی بلوچ قوم سے صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں:
جب کوئی سنگت گلزمین کے لیے شہید ہو، تو اس کے جنازے کے بعد بھی اس کا خیال رکھنا۔ کم از کم اس کے والدین کا دروازہ کھٹکھٹانا۔ ان کے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنا۔ اگر کچھ نہیں دے سکتے تو حوصلہ ضرور دینا۔
کیونکہ اصل امتحان شہادت کے بعد شروع ہوتا ہے۔
اور قومیں نعروں سے نہیں، نبھانے سے زندہ رہتی ہیں۔
