جبری لاپتہ نسرینہ بلوچ کے واقعے کو منظر عام پر لانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں ،اہلخانہ

بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والے 17 سالہ طالبہ نسرینہ بلوچ کی اہلِ خانہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے انصاف کے حصول کے لیے سراپا احتجاج ہیں، مگر تاحال کسی بھی ادارے کی جانب سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

اہلِ خانہ کے مطابق 22 نومبر کی شب تقریباً 11 بجے حب چوکی میں ایف سی، سی ٹی ڈی اور سادہ لباس میں ملبوس مسلح افراد زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے، گھر میں توڑ پھوڑ کی اور نسرینہ بلوچ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ جاتے ہوئے انہیں سخت دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس واقعے کو منظر عام پر لایا گیا تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد اہلِ خانہ نے انصاف کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے رجوع کیا، اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا اور سی ٹی ڈی کے دفاتر کے چکر لگائے، جہاں ابتدا میں انہیں یہ کہہ کر تسلی دی گئی کہ کچھ تفتیش کے بعد نسرینہ بلوچ کو رہا کر دیا جائے گا، مگر ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ تو بچی کو رہا کیا گیا، نہ اس کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا ہیں اور انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ نسرینہ بلوچ زندہ ہے یا نہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران نسرینہ کی قریبی رشتہ دار نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ نسرینہ کے لیے ماں جیسی حیثیت رکھتی ہیں اور ہر لمحہ خوف اور بے بسی میں مبتلا ہیں۔

اہلِ خانہ نے صحافی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین انسانی مسئلے کو اجاگر کریں اور اعلیٰ حکام تک ان کی آواز پہنچائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کسی ایک خاندان تک محدود نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرناک مثال بن چکا ہے، جس طرح مردوں کی جبری گمشدگیاں ایک اجتماعی مسئلہ بنیں، اسی طرح خواتین کی جبری گمشدگیاں بھی ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔

انہوں نے واضح مطالبہ کیا کہ اگر ریاستی اداروں کو نسرینہ بلوچ پر کسی قسم کا کوئی الزام یا شبہ ہے تو اسے آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، مگر کسی کمسن بچی کو اس طرح جبری طور پر لاپتہ کرنا نہ آئینی طور پر جائز ہے، نہ اخلاقی اور نہ ہی انسانی اقدار کے مطابق۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر اہلِ خانہ نے اعلان کیا کہ وہ ماما قدیر کے احتجاجی کیمپ میں اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گے اور جلد اسی مقام سے آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ نسرینہ بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کی جائے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

زامران میں پاکستانی فوج پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل اے

منگل جنوری 6 , 2026
بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے ) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے زامران میں قابض پاکستانی فوج کو ایک آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ