
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 18 دسمبر کی سہ پہر تقریباً چار بجے نوشکی کے علاقہ زرّین جنگل میں قابض پاکستانی فورسز کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو آئی ای ڈی بم حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فورسز کے تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے، جبکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچار 19 دسمبر کو تمپ کے علاقے ملانٹ میں معمول کے گشت پر تھے کہ راستے میں قابض پاکستانی فورسز نے ایک کواڈ کاپٹر کے ذریعے ان کا تعاقب کیا۔ سرمچاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کواڈ کاپٹر کو نشانہ بنا کر مار گرایا۔
ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں، 20 دسمبر کو سرمچاروں نے ملانٹ میں قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے کیمپ پر گرنیڈ لانچر کے متعدد گولے داغے جو کیمپ کے اندر جا گرے جس کے نتیجے میں قابض فورسز کو جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ 19 دسمبر کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے دشت کے علاقہ شئے زنگی میں جاسوسی کے لیے نصب یوفون موبائل ٹاور کی مشینری کو نذر آتش کرکے ناکارہ بنا دیا۔
آخر میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ نوشکی، تمپ اور دشت میں تین مختلف کارروائیوں میں تین فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور ایک کواڈ کاپٹر کو مار گرانے اور ایک یوفون ٹاور کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
