کوئٹہ، تربت اور بسیمہ میں پاکستانی فوج پر حملے اور ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے کوئٹہ اور تربت میں قابض فوج کو دستی بم حملوں میں نشانہ بنایا جبکہ بسیمہ میں سی پیک شاہراہ پر ناکہ بندی کی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے بارہ دسمبر بروز جمعہ دن ایک بجے سے لیکر شام چھ بجے تک بسیمہ کے علاقے پتک میں سی پیک شاہراہ پر ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کی، اس دوران چیکنگ محکمہ کسٹمز کے دو اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا جو اس وقت تنظیم کی تفتیشی ٹیم کی تحویل میں ہیں۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد تنظیم ان اہلکاروں کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے بارہ دسمبر بروز جمعہ رات نو بجے تربت کے علاقے آبسر آپدروک میں قائم قابض پاکستانی فورسز کی چوکی پر دستی بم سے حملہ کیا جو چوکی کے اندر جا گرا جس کے نتیجے میں قابض فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

بیان میں کہا گیا کہ سرمچاروں نے ایک اور کاروائی میں تیرہ دسمبر رات دو بجے کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ کچھی بیگ تھانے کے دروازے کے سامنے کڑے تین ایف سی اہلکاروں کو دستی بم سے نشانہ بنایا جس سے تینوں اہلکار زخمی ہوئے۔

آخر میں ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کوئٹہ اور تربت میں قابض فورسز پر دستی بم حملے اور بیسمہ میں ناکہ بندی، کسٹم اہلکاروں کو حراست میں لینے کی زمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ آزاد بلوچستان کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

عمان سے ڈی پورٹ کیے گئے بلوچ وکیل اور کوئٹہ سے ڈاکٹر جبری لاپتہ

اتوار دسمبر 14 , 2025
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل اور ایک ڈاکٹر کو مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جس پر اہلِ خانہ اور شہری حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دشتی بازار تربت سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ حسن […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ