
بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے پسنی روڈ پر بانک چڑھائی کے نزدیک افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں مقامی افراد کی اطلاع پر پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کردیا۔
پولیس کے مطابق ہسپتال میں کی جانے والی ابتدائی کارروائی کے بعد دونوں لاشوں کی شناخت ظریف ولد لعل بخش سنکہ بلور کولواہ اور فاروق ولد نعیم کے ناموں سے ہوئی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان کچھ ماہ قبل پاکستانی فوج نے لاپتہ کیے گئے تھے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق ظریف بلوچ کو اورماڑہ سے رمضان المبارک سے دو ہفتے قبل جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جبکہ مزید بتایا گیا کہ اسے پاکستانی فورسز نے 30 اکتوبر کی رات یاسر بلوچ، اللہ بخش اور وحید احمد مولا بخش کے ہمراہ حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا تھا۔
واضح رہے کہ 23 نومبر 2023 کو بھی چار لاپتہ نوجوانوں بالاچ مولا بخش، ودود بلوچ، سیپ بلوچ اور شکور بلوچ کی لاشیں ملی تھیں جنہیں لواحقین نے پاکستانی فوج کی حراست میں ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بالاچ مولا بخش کے ورثا نے تربت سے کوئٹہ اور پھر اسلام آباد تک احتجاجی مارچ کیا تھا۔
