خضدار سے ایک نوجوان لاپتہ، تربت و پنجگور سے تین بازیاب

بلوچستان میں پاکستانی فورسز نے ضلع خضدار کے علاقے نال بازار سے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عبدالستار ولد جان محمد نامی نوجوان کو 29 اکتوبر کو ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے نال بازار سے حراست میں لیا، جس کے بعد تاحال اس کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ اہلِ علاقہ اور لواحقین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عبدالستار کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے علی آباد کوشقلات سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے دو نوجوان، شاہجان ولد عبدالمجید اور عبدالحفیظ ولد ماسٹر مولابخش، بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔ دونوں نوجوانوں کو 27 اکتوبر کو فورسز نے حراست میں لیا تھا، جبکہ وہ یکم نومبر کو بازیاب ہوئے۔

اسی طرح ضلع پنجگور سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا نوجوان ضمیر ولد نورالحق بھی بازیاب ہوگیا ہے۔ ضمیر بلوچ کو 29 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔

تاہم اسی روز پنجگور سے حمزہ ولد محمد عالم اور شاہ حسین ولد شفی جان نامی مزید دو نوجوانوں کو بھی فورسز نے حراست میں لیا تھا، جو تاحال لاپتہ ہیں۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

مدیر اعلیٰ

مدیر اعلیٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

قابض فورسز کا پنجگور میں بلوچ خواتین کے خلاف وحشیانہ عمل بلوچ عزت و وقار پر حملہ ہے۔ رحیم بلوچ ایڈووکیٹ

اتوار نومبر 2 , 2025
بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابق سیکرٹری جنرل رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچ خواتین محترمہ نازیہ شفی اور ان کی والدہ پری بلوچ کا پنجگور میں ان کے گھر سے پاکستانی نیم فوجی دستے فرنٹیئر کور کے ہاتھوں اغوا ایک نہایت قابلِ مذمت اور سنگین جرم ہے، جو […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ