انسانی حقوق کے کارکن جبری لاپتہ ممتاز بلوچ اور اسماعیل جتک کے بازیابی کے لیئے آواز اُٹھائیں۔ لواحقین

خضدار: پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ کیئے گئے ممتاز بلوچ اور اسماعیل جتک کے لواحقین نے انکے بازیابی کے لیے آواز اٹھانے کی اپیل کیا ہے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ ممتاز بلوچ کو پاکستانی فوج نے 6 ستمبر 2022 کو خضدار فاروک چوک سے تیسری بار جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ انکو لاپتہ ہوئے تین سال سے زائد عرصہ ہوچکے ہیں کہ ابتک انکے بارے میں ہمیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔ ہم اسکے بازیابی کے لیے علاقے کے متبریں کے پاس گئے ہیں ہر وہ دروازہ کٹ کھٹایا ہے جہاں سے کوئی امید تھا۔

انکا کہنا ہے کہ ہمیں علاقے کے متبرین نے ہر وقت یہی امید دلایا ہے کہ ممتاز جلد بازیاب ہوگا لیکن اب اسکے جبری لاپتہ ہونے کو تین سال سے زائد عرصہ ہوچکے ہے ابتک اسکا کوئی خبر نہیں ہے۔ ممتاز کے والدہ ہر وقت اس انتظار میں تھی کہ میرا بیٹا بازیاب ہوگا میں اسے دیکھونگی لیکن اس کے والدہ نے اپنے بیٹے کے جدائی کا درد لیکر اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ ہم ممتاز بلوچ کے بازیابی کے انتظار میں تھے کہ ممتاز کے داماد اسماعیل جتک کو بھی پاکستانی فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔اسماعیل کے لاپتہ ہونے سے ہمارا غم اور خوف مزید زیادہ ہوگئے ہیں۔

لواحقین نے بلوچ قوم اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ممتاز بلوچ اور اسماعیل جتک کے بازیابی کے لیئے آواز اٹھیں۔

مدیر اعلیٰ

مدیر اعلیٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بساک کا چوتھا مرکزی کونسل سیشن اختتام پذیر، اُزیر بلوچ چیئرمین اور پیرجان بلوچ سیکریٹری جنرل منتخب

جمعرات اکتوبر 30 , 2025
کیچ: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (BSAC) کا چوتھا مرکزی کونسل سیشن “بیادِ عطاشاد و آزات جمالدینی، بنامِ بلوچ خواتین” کے عنوان سے کیچ میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس کی صدارت تنظیم کے سابق چیئرمین شبیر بلوچ نے کی۔ سیشن کے دوران مختلف تنظیمی امور اور آئندہ کے […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ