
تحریر: ذاکر بلوچ
بلوچ سرزمین ہمیشہ سے بہادری، قربانی اور غیرت کی پہچان رہی ہے۔ اسی دھرتی کے سپوتوں میں سے ایک، زاہد عرف واحد کیپٹن بھی تھا، جو اپنی جوانی، اپنی جان اور اپنی خوشیاں اس وطن کی آزادی کے لیے قربان کر گیا۔
زاہد صرف ایک عام نوجوان نہیں تھا، وہ حوصلے اور جرات کی علامت تھا۔ کم عمری سے ہی اس کے دل میں اپنی سرزمین سے بے پناہ محبت اور اس کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آزادی کا راستہ آسان نہیں، لیکن اس نے خوف کو کبھی قریب نہیں آنے دیا۔
جہاں اور لوگ اپنے خوابوں میں دنیا کی آسائشیں دیکھتے ہیں، وہاں زاہد کے خواب بلوچستان کی خوشحالی اور آزادی کے تھے۔ یقین مانیں، وہ پاگل سا تھا اپنی سرزمین کے لیے۔ وہ ہر وقت اپنے ساتھیوں کو حوصلہ دیتا، کمزور دلوں کو مضبوط کرتا اور ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کی ہمت بخشتا۔
جب لڑائی کا وقت آیا تو زاہد عرف واحد کیپٹن صفِ اول میں کھڑے تھے۔ دشمن کے سامنے ایک شیر دل سپاہی کی طرح لڑے اور اپنے خون سے اس مٹی کو سرخ کر دیا جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا۔ ان کی شہادت صرف ایک جان کا نقصان نہیں، بلکہ ایک عزم اور قربانی کی علامت ہے جو ہمیشہ بلوچ نوجوانوں کے دلوں کو جگاتی رہے گی۔
زاہد کی زندگی ایک پیغام ہے کہ آزادی کبھی مانگنے سے نہیں ملتی، اسے قربانیوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ زاہد عرف کیپٹن کو بلوچ قوم ہمیشہ یاد رکھے گی، اپنے لفظوں میں، اپنی دعاؤں میں۔
زاہد عرف واحد کیپٹن کا نام ہمیشہ تاریخ کے سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔ وہ صرف ایک بیٹا، بھائی یا دوست نہیں تھا، بلکہ بلوچستان کے لیے قربانی دینے والے ان سپوتوں میں سے ایک تھا جو آنے والی نسلوں کو ہمت اور آزادی کا سبق دیتے رہیں گے۔