گوادر اور جھاؤ میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں دو نوجوان جبری لاپتہ

بلوچستان کے اضلاع گوادر اور آواران میں پاکستانی فورسز نے دو افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، گوادر سے لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت اجمل ولد یاسین کے طور پر ہوئی ہے، جو کیچ کے علاقے ناصر آباد کے رہائشی ہیں۔ انہیں 21 اگست کو فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب، آواران کے علاقے جھاؤ میں پاکستانی فورسز نے گھروں پر چھاپے مارے اور ایک شخص کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ جس کی شناخت میران ولد ابراہیم کے نام سے ہوئی ہے۔ انہیں گزشتہ روز اپنے گھر پر چھاپے کے دوران فورسز نے حراست میں لیا۔

ذرائع کے مطابق، میران دبی میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھا اور علاج کے لیے حال ہی میں وطن آیا تھا۔ قبل ازیں، مئی 2025 میں بھی وہ ایک بار لاپتہ ہوا تھا، لیکن بعد ازاں رہا ہوئے تھے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

تنظیم کے کارکن نظر مری کی جبری گمشدگی سیاسی جدوجہد پر ریاستی قدغن کا تسلسل ہے۔ ‏بی وائی سی

جمعرات اگست 28 , 2025
‏بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ رات 8 بجے کے قریب گولیمار چوک کوئٹہ سے پاکستانی خفیہ اداروں, سی ٹی ڈی اور پولیس کے اہلکاروں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکن نظر مری کو جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔ نظر مری […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ