
بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابق چیئرمین خلیل بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کے فریم ورک یا ریاستی ڈھانچے میں باوقار مفاہمانہ سیاست کا کوئی گنجائش نہیں کیونکہ پاکستان ایک قابض اور بلوچ مقبوضہ خطہ، پاکستانی کسی بھی سطح کے رہنما کے ساتھ اپنا نوآبادیاتی رویہ تبدیل کرنے سے قاصر ہے کیونکہ دنیا جہاں میں نوآبادیاتی طاقتوں کا نفسیات ایک ہی ہوتا ہے کہ مقبوضہ خطے کے لوگوں کو اس طرح اپنے زیر نگین رکھا جائے کہ وہ کسی بھی بھی سطح پر سر اٹھانے یا اپنے قومی وجود و بقا کے لیے جدوجہد کا قابل ہی نہ رہیں، یہی کچھ پاکستان نے قدآور نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ کیا لیکن جہاندیدہ سیاستدان نواب اکبرخان بگٹی نے ریاست پاکستان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے بجائے میدان میں جان دینے کو ترجیح دی اور مصالحت پسند رہنماؤں کے لیے ایک بڑی سبق چھوڑ دی اور آج بھی جو بلوچ رہنما کسی بھی سطح پر سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کے اندر باوقار زندگی جی سکتے ہیں ابھی وقت ہے کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔
انہوں نے کہا کہ نواب بگٹی نہ صرف ایک قبائل سردار و بڑے سیاسی رہنما تھے بلکہ ایک وسیع المطالعہ دانشور، مدبر اور معاملہ فہم سیاستدان تھے، وہ ایک سیاسی رہنما کے علاوہ ادب، تاریخ اور فلسفے کا ایک حسین امتزاج تھے، تاریخ شناسی کا یہ عالم تھا کہ پیرانہ سالی اور بیماری کے باوجود انہوں نے فوجی یلغار کے آگے سر تسلیم خم نہ کیا اور اپنی قوم کی عزت و وقار کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ قربانی بلوچ قومی مزاحمت کے لیے نئی توانائی اور استقامت کے بنیادوں میں شامل ہوگئی۔
چئیرمن خلیل بلوچ نے کہا کہ انیسویں برسی پر میں نواب اکبر خان بگٹی کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں۔ ان کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نوآبادیاتی جبر کے مقابلے میں عزت مند موت غلامی کی زندگی پر فوقیت رکھتی ہے۔ بلوچ قومی تحریک ان کے پیغام اور قربانی کو مشعلِ راہ بنا کر اپنی جدوجہد آزادی کو جاری رکھے گی۔