سُرخ چادر اوڑھی پہاڑی

تحریر: رُژن بلوچ
زرمبش مضمون

ہر روز صبح کی پہلی کرن کے ساتھ جب پرندوں کی سُریلی آوازیں ہواؤں میں گشت کرتی ہوئی کانوں سے ٹکراتی ہیں تو آخرکار اُس پہاڑی کی آغوش میں جا کر لیٹ جاتی ہیں جس نے اپنے چہرے پر سرخ چادر اوڑھ رکھی ہے۔ ایسے ہی صبح کے مہربان آسمان تلے زمینی لوگ بیدار ہوتے ہیں۔ رات کے گھنے اندھیروں کے بعد وہ اُٹھتے ہیں، اپنے چہروں پر چھپا ہوا درد سمیٹ کر نئے دن کا آغاز مثبت امیدوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کی نظریں اُس سرخ چادر اوڑھی پہاڑی پر جم جاتی ہیں اور وہ پہاڑی ان کی مسکراہٹوں کو دیکھ کر انہیں خاموش سلام پیش کرتی ہے۔

پھر زندگی اپنے معمول کے ساتھ چل نکلتی ہے۔ ماں روٹی پکاتی ہے، بچے اسکول کا رُخ کرتے ہیں، بیٹیاں کڑھائی میں مصروف ہو جاتی ہیں اور مرد کھیتوں کا رُخ کرتے ہیں۔ دن گزرتے گزرتے جب شام ڈھلتی ہے تو ایک گہری خاموشی سب کے دلوں پر اُتر آتی ہے۔ رات کے اندھیروں سے مایوس دل ایک دوسرے کی حفاظت کی دعائیں کرتے ہیں اور ساتھ نبھانے کے وعدے بانٹتے ہیں۔ کچھ لوگ کمروں میں سو جاتے ہیں اور کچھ کھلے آسمان تلے۔ چاندنی جب اس سرخ چادر اوڑھی پہاڑی پر پڑتی ہے تو وہ پہاڑی سینہ تان کر اور بلند و بالا دکھائی دیتی ہے، جیسے اپنے ہمسفر پہاڑوں کے ساتھ پاسبانی پر مامور ہو۔ یہ پہاڑیاں اہلِ علاقے کے لیے ماں کی گود کی مانند ہیں اور لوگ انہیں "بولان کے پاسبان” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مگر جیسے ہی خاموشی چھا جاتی ہے تو اچانک روشنیوں اور بھاری قدموں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ شیطانی قدم ہیں جن کی چاپ سے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ وہ قدم جنہوں نے اس گلزمین پر ظلم کی کئی داستانیں رقم کی ہیں۔ یہ وہ شیطانی قوت ہے جسے پاکستان کہا جاتا ہے، جو کبھی رات کے اندھیروں میں اور کبھی صبح کی پہلی روشنی کے ساتھ اپنے ظالمانہ نظام کے تحت لوگوں کو قتل کرتی یا بے نام راہوں میں گم کر دیتی ہے۔

ان قدموں کی چاپ سنتے ہی سرخ چادر اوڑھی پہاڑی بپھر جاتی ہے۔ وہ اپنے ہمراہ پہاڑیوں کو پکار کر آگاہ کرتی ہے:
“پاسبان تیار ہو جاؤ، ناحق دشمن ہمارے خون کی پیاس بجھانے آرہا ہے۔”

پہاڑیاں گونج اُٹھتی ہیں۔ پورا بولان جان لیتا ہے کہ محافظ تیار ہیں۔ دشمن کو اس راز کی خبر تک نہیں ہوتی اور جب اچانک سرخ چادر اوڑھی پہاڑی کی ایک پُرجوش صدا بلند ہوتی ہے تو تمام پاسبان اپنی تیز دھار ہتھیاروں کے ساتھ دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس لمحے آسمان بھی چاند اور ستاروں کے ہمراہ مسکرا رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ ان پہاڑیوں کے سینے میں بہادر بلوچ سرمچار بستے ہیں جو اپنی گلزمین بلوچستان کی خاطر ہر وقت لڑنے اور مرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ سرخ چادر ایک استعارہ ہے۔ یہ ان سرمچاروں کی قربانی کی نشانی ہے جو آخری سانس اور آخری گولی تک لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ چادر اس خون کی علامت ہے جو انہوں نے اپنی گلزمین بلوچستان کے لیے بہایا۔ جب یہ بلند پہاڑی اس سرخ چادر کو اوڑھتی ہے تو دراصل ان شہیدوں کی یاد اور عظمت کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ پہاڑیوں میں ایسے اور بھی سرمچار ہیں جو گلزمین اور قوم کے لیے قربان ہونے کے لیے تیار ہیں۔

اس رات طوفان کی مانند سرمچار دشمن پر حملہ کرتے ہیں۔ زمین اپنے نوجوانوں کو دیکھ کر خوشی کے آنسو بہاتی ہے۔ دشمن ذلت و رسوائی کا شکار ہوتا ہے۔ کچھ مارے جاتے ہیں اور کچھ بزدلوں کی طرح بھاگ نکلتے ہیں۔

یوں وہ رات انجام کو پہنچتی ہے۔ لوگ اپنی پہاڑیوں اور پاسبانوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور پہاڑیاں اپنی قوم کے محافظوں پر ناز کرتی ہیں۔ پھر صبح ہوتے ہی اہلِ دیار ایک دوسرے کو اپنے پاسبانوں (سرمچاروں) کی بہادری کے قصے سناتے ہیں۔ سرخ چادر اوڑھی پہاڑی اور اس کے ہمراہ پہاڑیاں مسکرا کر ان کی خوشی کو دیکھتی ہیں اور یوں گونجتی ہیں:
“یہ جنگ گلزمین بلوچستان کی آزادی تک جاری رہے گی۔”

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو تین ماہ مکمل، ثنا بلوچ کی گرفتاری بھی ظاہر نہ کی گئی ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

پیر اگست 25 , 2025
نیشنل ڈیموکرییٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو تین ماہ مکمل ہونے پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت سیاست کے راستے مسدود کر دیے گئے ہیں۔ صرف چھے ماہ کے دوران آٹھ سو سے زائد افراد کو جبری گمشدگی کا […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ