کراچی پریس کلب کے باہر زاہد علی بلوچ کی بازیابی کے لیے احتجاجی واک

زاہد علی بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک ماہ مکمل ہوگیا، تاہم تاحال ان کی بازیابی عمل میں نہ آسکی۔ اس صورتحال کے خلاف ان کے لواحقین اور اہل خانہ کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر گزشتہ بیس دنوں سے احتجاجی کیمپ قائم ہے۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ زاہد علی کو لاپتہ کرکے انہیں ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ریاستی ادارے ان کی بازیابی میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔ اسی تناظر میں اتوار کے روز لواحقین کی جانب سے ایک احتجاجی واک کا انعقاد کیا گیا جو کراچی پریس کلب کے باہر نکالی گئی۔

واک میں انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، طلبہ، سیاسی کارکنوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی اور لاپتہ نوجوان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے اور اس کی جبری گمشدگی آئین و قانون کے سراسر منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زاہد علی کو فی الفور منظر عام پر لایا جائے اور اسے انصاف فراہم کیا جائے۔

مدیر اعلیٰ

مدیر اعلیٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بلوچ قوم کیلئے قانون، عدالت و انصاف کے دروازے بند ہیں،محض مزاحمت کا راستہ باقی ہے، لواحقین کی پریس کانفرنس

اتوار اگست 24 , 2025
پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں آج بروزاتوار کو نیشنل پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنماؤں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے پُرامن احتجاج چالیس ویں دن بھی جاری رہی ۔جہاں اسیران کے لواحقین پریس کانفرنس کی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے آرگنائزر ڈاکٹر […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ