ملیر: صادق بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف اہلِ خانہ کا احتجاج، سڑک بلاک

ملیر کے علاقے کالا بورڈ کی مرکزی سڑک کو 26 سالہ میڈیا کے طالب علم صادق بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف اہلِ خانہ نے احتجاجاً بند کر دیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق صادق بلوچ کو 23 اگست کی صبح تقریباً پانچ بجے ریاستی اداروں اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے حراست میں لیا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ اقدام جبری گمشدگی کے زمرے میں آتا ہے۔

بعد ازاں پولیس حکام نے تصدیق کی کہ صادق بلوچ سی ٹی ڈی کی تحویل میں موجود ہیں۔ پولیس کی یقین دہانی کے بعد اہلِ خانہ نے سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر صادق بلوچ کو رہا نہ کیا گیا تو وہ دوبارہ احتجاجاً سڑک بلاک کریں گے۔

مدیر اعلیٰ

مدیر اعلیٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

اسلام آباد و کراچی میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی دھرنوں کو 39واں اور 19واں دن مکمل

ہفتہ اگست 23 , 2025
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج اپنے انتالیسویں روز میں داخل ہوگیا۔ مظاہرین میں خواتین، بزرگ اور بچے شامل ہیں جو سخت موسم، بارش اور ریاستی بے حسی کے باوجود اپنے پیاروں […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ