
بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں کی رہائی کے مطالبے پر اسلام آباد اور کراچی میں جاری دھرنے اور احتجاجی کیمپ آج بالترتیب 37 ویں اور 17 ویں روز میں داخل ہوگئے۔
اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرین، جن میں جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کے لواحقین شامل ہیں، شدید گرمی اور ریاستی دباؤ کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ انصاف اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے سوا کسی سمجھوتے پر تیار نہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے لیکن اپنی آواز کھونے کو تیار نہیں۔ جب تک ہمارے گمشدہ بیٹے، بھائی اور باپ واپس نہیں آتے، ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔”
دوسری جانب کراچی پریس کلب کے باہر بھی احتجاجی کیمپ 17 ویں روز جاری ہے، جہاں زاہد علی بلوچ کے اہل خانہ سراپا احتجاج ہیں۔ زاہد بلوچ کو 17 جولائی 2025 کو کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ ان کے والد عبدالحمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر ان کے بیٹے پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے جبری گمشدگی ایک غیر انسانی اور غیر قانونی عمل ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔”

موسمی مشکلات، شدید بارشوں اور طوفانی ہواؤں کے باوجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے پیارے بازیاب نہیں ہوتے وہ گھروں کو واپس نہیں جائیں گے۔ احتجاجی کیمپ میں شریک خواتین اور بچے بھی ریاست سے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بی وائی سی کے رہنماؤں کی گرفتاری اور جبری گمشدگیوں کے خلاف یہ احتجاجی تحریک کئی ہفتوں سے ملک کے مختلف شہروں میں جاری ہے۔