ظفر اللہ بنگلزئی کی گمشدگی نے گھر کو قبرستان میں بدل دیا، والدہ کی عالمی اداروں سے بازیابی کی اپیل

ظفر اللہ بنگلزئی کی والدہ نے اپنے بیٹے کی بازیابی کا اپیل کرتے ہوئے کہا کہ  ظفراللہ بنگلزئی جن کو ان کے ماموں ڈاکٹر سرور کے ساتھ 13 جولائی 2010 کو گاؤں کابو نزد اسپلنجی تحصیل دشت ضلع مستونگ سے ایک آپریشن کے دوران جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ظفر اللہ بنگلزئی انجینیئرنگ یونیورسٹی خضدار کے سول ٹیکنالوجی میں فائنل ایئر کے اسٹوڈنٹ تھے۔ ظفر اللہ بنگلزئی کی طویل جبری طور پر گمشدگی کے  بعد سے  ہمارا گھر  قبرستان بن چکا ہے  تمام خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں ہیں۔

والدہ نے کہا ہے کہ ہم نے  ظفر اللہ بنگلزئی کی رہائی کے لیے  ریاست کے بنائے ہوئے ہر کمیشن ہر فورم و عدالت سے رجوع کیا مگر کوئی ہماری فریاد سننے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ لہذا میں مایوس ہو کر بین الاقوامی انصاف کے اداروں اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ میرے لخت جگر کے لیے آواز بلند کریں  تاکہ آن کو رہائی مل سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ڈاکٹر اللہ نذر، بام اور امانت

پیر جولائی 14 , 2025
تحریر: دل مراد بلوچ زرمبش مضمون کسی زمانے میں، میں فوٹوگرافر ہوا کرتا تھا۔ فوٹوگرافی کا کوئی علم تو نہ تھا لیکن شوق اور کیمرا دونوں اچھے تھے۔ ہزاروں تصویریں کھینچیں  جو آج تک ہارڈ ڈرائیوز میں قید ہی ہیں، ایک جانب میری سستی اور دوسری جانب سوشل میڈیا پر […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ