
ظفر اللہ بنگلزئی کی والدہ نے اپنے بیٹے کی بازیابی کا اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ظفراللہ بنگلزئی جن کو ان کے ماموں ڈاکٹر سرور کے ساتھ 13 جولائی 2010 کو گاؤں کابو نزد اسپلنجی تحصیل دشت ضلع مستونگ سے ایک آپریشن کے دوران جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ظفر اللہ بنگلزئی انجینیئرنگ یونیورسٹی خضدار کے سول ٹیکنالوجی میں فائنل ایئر کے اسٹوڈنٹ تھے۔ ظفر اللہ بنگلزئی کی طویل جبری طور پر گمشدگی کے بعد سے ہمارا گھر قبرستان بن چکا ہے تمام خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں ہیں۔
والدہ نے کہا ہے کہ ہم نے ظفر اللہ بنگلزئی کی رہائی کے لیے ریاست کے بنائے ہوئے ہر کمیشن ہر فورم و عدالت سے رجوع کیا مگر کوئی ہماری فریاد سننے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ لہذا میں مایوس ہو کر بین الاقوامی انصاف کے اداروں اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ میرے لخت جگر کے لیے آواز بلند کریں تاکہ آن کو رہائی مل سکے۔