
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مسلح افراد کی جانب سے پاکستانی فورسز اور قیمتی معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر متعدد حملے اور جھڑپیں رپورٹ ہوئی ہیں، جب کہ بعض علاقوں میں ناکہ بندی اور سخت چیکنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ کارروائیاں بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی جانب سے جاری آپریشن “بام” کے تحت کی جا رہی ہیں۔
خضدار: وڈھ کے علاقے دراکالہ میں مسلح افراد نے قیمتی معدنیات لے جانے والی دو گاڑیوں پر حملہ کر کے نقصان پہنچایا۔
پنجگور: گچک کے علاقے میں پاکستانی فورسز پر شدید حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صبح سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں طویل وقت تک سنائی دیتی رہیں۔
اسی طرح سوراپ میں فورسز کی ایک گاڑی کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی کو نقصان پہنچا، جب کہ اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔
کیچ: گزشتہ شب 8 بجے مسلح افراد نے سری گڈگی واٹر سپلائی میں قائم پاکستانی فورسز کی چوکی پر تین اطراف سے جدید اور بھاری ہتھیاروں سے شدید حملہ کیا۔
: کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ پر کھڈکوچہ کے مقام، الحسن ہوٹل کے قریب، مسلح افراد نے معدنیات لیجانے والے ٹرکوں کو نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا۔
قلات اور منگوچر کے درمیان واقع مرجان ہوٹل کے قریب بڑی تعداد میں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی قائم کر رکھی ہے، جہاں آنے جانے والی گاڑیوں کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔
کوئٹہ: سونا خان اور ہزار گنجی کے علاقوں میں ایف سی کی دو چیک پوسٹوں پر حملے کیے گئے۔
بلگتر:
آج صبح تقریباً 9 بجے، بلگتر کے علاقے سعد آباد میں پاکستانی فورسز کے کیمپ پر بڑی تعداد میں مسلح افراد نے چاروں جانب سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
مزید علاقوں سے بھی حملوں اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

