
مستونگ کے علاقے کلی دتو سے تعلق رکھنے والی غلام علی کی بہن نے اپنے بھائی کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں، عدالتوں، اور حکومتی اداروں سے فوری اقدام کی اپیل کی ہے۔
ان کے مطابق، ان کے بھائی غلام علی بلوچ ولد عبدالحکیم کو 22 جون 2025 کو کوئٹہ کے جناح ٹاؤن سے صبح تین بجے ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے سب کے سامنے اغوا کیا۔ کئی دن گزرنے کے باوجود نہ کوئی اطلاع ملی ہے نہ رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی ان کی خیریت کے بارے میں کچھ معلوم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گھر میں غم و الم کی فضا ہے، والدہ کی حالت رو رو کر نازک ہو گئی ہے، اور پورا خاندان شدید اذیت میں مبتلا ہے۔
لاپتہ غلام علی کی بہن نے کہا کہ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمارے بھائی کو بازیاب کیا جائے اور ہمارا بھائی ہمیں زندہ سلامت واپس مل جائے۔ اگر اس پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔ کسی بھی شہری کو اس طرح لاپتہ کرنا نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ غیر انسانی اور غیر اخلاقی عمل بھی ہے۔
انہوں نے تمام انسانی حقوق کے کارکنان، صحافیوں، اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ وہ ان کی آواز بنیں اور #ReleaseGhulamAliBaloch اور #SaveBalochStudents جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے اس پیغام کو پھیلائیں۔

