
بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل مشکے میں پاکستانی فورسز نے زیرِ حراست شخص کو قتل کر کے اس کی تشدد زدہ لاش پھینک دی۔
ذرائع کے مطابق قتل ہونے والے شخص کی شناخت قادربخش ولد ہرزی کے نام سے ہوئی ہے، جو مشکے کے علاقے کھنڈری کے رہائشی تھے۔ انہیں گزشتہ رات تقریباً دو بجے پاکستانی فورسز اور ان کے قائم کردہ ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے ان کے گھر سے زبردستی اغوا کیا تھا، جس کے بعد آج ان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قادربخش بیمار تھے۔ فورسز نے انہیں حراست میں لینے کے بعد بازار کی طرف لے جا کر کچھ دیر بعد قتل کر دیا۔
قادربخش اس سے قبل بھی کئی بار پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے جا چکے تھے، جہاں انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنا کر بعد میں رہا کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ بلوچستان بھر میں پاکستانی فورسز اور ان کے زیرِ سرپرستی کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کے ہاتھوں نوجوانوں کو مسلسل ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آج ہی کے روز پنجگور میں 10 سال سے زائد عرصے سے لاپتہ ظہیر بلوچ کے جوان بیٹے ذیشان زہیر کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

