
بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل مشکے میں پاکستانی فوج نے ایک زیرِحراست نوجوان کو تشدد اور فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، مقتول نوجوان کی شناخت مسعود ولد خدابخش کے نام سے ہوئی ہے، جو مشکے کے علاقے لاکی کے رہائشی تھے۔ پاکستانی فوج اور اس کے قائم کردہ ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے انہیں تقریباً 20 روز قبل ان کے گھر سے حراست میں جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔ آج ان کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، مسعود اس سے قبل بھی گزشتہ سال پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے تھے، اور بعدازاں انہیں بلوچ آزادی پسند تنظیموں کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ مشکے میں پاکستانی فوج کے زیرِ حراست افراد کے قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک اس علاقے میں 20 سے زائد جبری لاپتہ افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔