
بزرگ آزادی پسند رہنما اور جبری لاپتہ استاد واحد کمبر کی بیٹی ایڈوکیٹ شاری کمبر نے کہا ہے کہ واحد کمبر کی زندگی ایک غیر معمولی جدوجہد کی داستان ہے.ایک ایسی جدوجہد جو نوجوانی سے شروع ہوئی اور آج بڑھاپے تک اسی جذبے سے جاری ہے۔ وہ صرف ایک شخص نہیں، بلکہ ایک تحریک ہیں؛ ایک ایسا نظریہ جس نے بلوچستان میں ریاست کے جبر، ناانصافی اور استحصالی نظام کے خلاف آواز بلند کی۔۔
شاری کمبر نے کہا ہے کہ ان کے خلاف ریاستی جبر کی کئی شکلیں سامنے آئیں، مگر سب سے واضح اور حالیہ مثال ان کا وہ کیس ہے جو اس وقت بلوچستان ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔ اس کیس میں واحد کمبر کو عدالت میں پیش نہ کرنے اور انصاف دلانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ریاست کی خاموشی اور دانستہ تاخیر ہے
انہوں نے کہا کہ واحد کمبر کے کیس میں عدالت نے وفاقی حکومت سے ایک رپورٹ طلب کی تھی، جو تاحال پیش نہیں کی گئی۔ اس رپورٹ کے نہ آنے کی وجہ سے کیس مسلسل التوا کا شکار ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست دانستہ طور پر اس معاملے کو طول دینا چاہتی ہے، تاکہ واحد کمبر کے مسئلے کو دبا دیا جائے، یا اسے وقت کی گرد میں دفن کر دیا جائے لیکن واحد کمبر قوم کا وہ اثاثہ ہیں جِن کو نہ قوم بھول سکتی ہے اور نہ ہی اُنکا خاندان۔