
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ بارشوں، روڈ حادثات اور فائرنگ کے واقعات میں خواتین و بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں۔
لورالائی کے علاقے مڑہ تنگی میں رات کے وقت ندی میں طغیانی کے باعث ایک گاڑی پانی میں بہہ گئی۔ مقامی افراد کے مطابق گاڑی میں خواتین اور بچے سوار تھے، جائے وقوعہ سے صرف چپلیں ملی ہیں، جبکہ گاڑی اور متاثرین کی شناخت تاحال ممکن نہ ہو سکی۔ انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر وندر کسٹم کے قریب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر مسافر کوچ بارش اور تیز رفتاری کے باعث الٹ گئی، جس میں 3 افراد زخمی ہوئے۔
سبی چاغی کے علاقے شادی شیف میں موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کے دوران مزاحمت پر نصیر خان مینگل کو فائرنگ اور تشدد کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا گیا۔ ملزمان موٹر سائیکل چھین کر فرار ہو گئے۔
منگچر کے علاقے کلی دینگانزئی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جتک جرگہ کونسل پاکستان کے ترجمان مولانا علی حسن جتک اور قبائلی رہنما میر علی گل جتک ہلاک ہو گئے۔
کوئٹہ کے علاقے چالو باڑی میں ہوائی فائرنگ کی زد میں آ کر ایک 7 سالہ بچی زخمی ہو گئی، جو بعد ازاں کراچی کے اسپتال میں دم توڑ گئی۔ جبکہ علمدار روڈ مری آباد میں ایک 11 سالہ بچہ بھی ہوائی فائرنگ سے زخمی ہوا، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔