گریشہ میں شہید ہونے والے ساتھی سرمچاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بی ایل ایف

lبلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بائیس جون 2025 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچار گریشہ کے علاقے میں تنظیمی گشت پر مامور تھے کہ بدرنگ کے مقام پر ریاستی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں سے ان کا سامنا ہوا۔ اس موقع پر ایک شدید جھڑپ شروع ہوئی جس میں تنظیم کے تین سرمچار شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے، جب کہ دشمن کا ایک کارندہ ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

ترجمان نے کہا کہ جھڑپ میں شہید ہونے والے سرمچاروں میں سیکنڈ لیفٹیننٹ مقبول بلوچ عرف قندیل بلوچ، سراج بلوچ عرف زبیر بلوچ اور خالد بلوچ عرف سفر بلوچ شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید سیکنڈ لیفٹیننٹ مقبول بلوچ عرف قندیل ولد نوشیروان، گریشہ کے جاورجی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ ایک تعلیم یافتہ نوجوان تھے اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد میں تعلیم حاصل کرچکے تھے۔ ریاستی اداروں نے ان کو 2021 میں جبری طور پر لاپتہ کیا اور سات ماہ تک ریاستی عقوبت خانوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد رہا ہوا تھا۔
رہائی کے بعد آپ نے 2022 میں بلوچ وطن کی آزادی کے لیے بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی اور قلیل مدت میں اپنی فکری بصیرت، تنظیمی وابستگی اور عسکری صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک فعال، باصلاحیت اور فرنٹ لائن سرمچار کے طور پر ابھرے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے کیلکور، گچک، مشکے، جھاؤ، وڈھ، اورناچ، نال اور گریشہ سمیت متعدد علاقوں میں آپریشنز میں حصہ لیا۔ آپ کی ذہانت اور قربانی کے جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم نے آپ کو "قربان یونٹ” میں شامل کیا جو تنظیم کا ایک اہم اور قابلِ اعتماد دستہ ہے۔

بی ایل ایف نے بیان میں کہا کہ شہید سراج بلوچ عرف زبیر ولد دولت بلوچ، باہڑی،  گریشہ کے رہائشی تھے۔ 2020 میں آپ بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنے، لیکن رہائی کے بعد نظریاتی وابستگی میں ذرا برابر کمی نہ آئی۔ آپ نے ایک سال قبل بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی اور قلیل وقت میں کئی حساس مشنز میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید خالد بلوچ عرف سفر بلوچ ولد محمد بخش، گیشتری گریشہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ بھی 2020 میں چند ماہ کے لیے جبری لاپتہ رہے۔ رہائی کے بعد آپ نے بھی قومی تحریک میں عملی کردار ادا کرنے کا عزم کیا اور ایک سال قبل بلوچستان لبریشن فرنٹ کا حصہ بنے۔

ترجمان نے کہا کہ دونوں ساتھیوں نے جھاؤ، اورناچ، نال اور گریشہ جیسے اہم محاذوں پر پارٹی کے عسکری آپریشنز میں جرأت، خلوص، اور ایثار سے بھرپور کردار ادا کیا۔

آخر میں بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان عظیم فرزندوں کو سلام پیش کرتی ہے، جنہوں نے بلوچ وطن کے آزادی کی عظیم مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں ہمارے قومی سفر کا روشن چراغ ہیں، اور ہم عہد کرتے ہیں کہ ان کے مشن کو جاری رکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کوئٹہ، داعش کے ہاتھوں اغواء ہونے والے کمسن کی لاش برآمد،  کیچ میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک، ایک زخمی

جمعہ جون 27 , 2025
بلوچستان: گزشتہ سال کوئٹہ سے اغواء ہونے والے کمسن مصور خان کاکڑ کی لاش مستونگ کے علاقے اسپلنجی سے برآمد ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق لاش کی حالت انتہائی خراب اور مسخ شدہ تھی۔ لاش کو لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے اور تدفین بھی عمل میں آ چکی […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ