
مستونگ کے علاقے کلی دتو سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ نے کہا ہے کہ 24 مئی 2025 کی شب 3 بجے فرنٹیئر کور (ایف سی) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے ان کے گھر پر چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے عابد حسین ولد محمد زمان کو ان کے بھائی سمیت حراست میں لیا۔ راستے میں بھائی کو چھوڑ دیا گیا، لیکن عابد حسین تاحال لاپتہ ہیں۔
اہلِ خانہ نے کے مطابق انہوں نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر شہید غلام علی چوک پر 10 گھنٹے طویل دھرنا دیا، جس کے بعد اے ڈی سی محمد افضل سرپرہ نے تحریری یقین دہانی کرائی کہ عابد حسین کو 4 دن میں رہا کیا جائے گا اور گھر سے اُٹھایا گیا سامان، بشمول چار موبائل فونز، واپس کیا جائے گا۔ تاہم یہ وعدہ وفا نہ ہو سکا۔
اہلِ خانہ نے مزید بتایا کہ یہ صدمہ ابھی ختم نہ ہوا تھا کہ 22 جون 2025 کو غلام علی ولد عبدالحکیم بلوچ، جو کہ کلی دتو کے ہی رہائشی ہیں، کو کوئٹہ کے جناح ٹاؤن سے جبراً لاپتہ کر دیا گیا۔
اہلِ خانہ نے کہا کہ ہم ایک ہی خاندان کے دو جوانوں کے لیے فریاد کر رہے ہیں۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے، ورنہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔”
انہوں نے کہا کہ اگر ان کے پیاروں کو بازیاب نہ کیا گیا تو وہ کوئٹہ-کراچی شاہراہ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔