اس میں کوئی شبہ نہیں، کہ نیشنل پارٹی اپنے غیر نظریاتی اعمال کے پیش نظر،بلوچستان میں اپنی طبعی سیاسی عمر پہلے ہی پوری کرتے ہوئے بلوچ سیاسی افق پر اپنے وجود کو منوانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ آج ہر ایک بلوچ جانتاہے، کہ نیشنل پارٹی بلوچ دوست جماعت نہیں۔بلکہ اس کا سیاسی پس منظر، پاکستانی فوج اور ان کے کاسہ لیسی سے آلودہ ہے۔ پنجابی سٹشلمنٹ کے ساتھ ان کے یارانگی تعلقات، تعاون اور روابط کے قصے کوئی ڈھکی چھپی پوشیدہ دیو مالائی کہانی نہیں ہے۔ بلکہ ان کے سیاست کے تانے بانے کا یہی ایک ہی ’چوکھٹ“ ہے،جس پر وہ سجدہ ریز ہے۔

اگر نیشنل پارٹی کے حالیہ دورہ چین کے مرکزی مقاصد کا سنجیدہ تجزیہ کیا جائے، کہ وہ چین جاکر کس ایجنڈا کو لے کر گئے تھے؟ تو یہ بات واضع اورمستندہے،کہ نیشنل پارٹی کے وفد نے اپنے”گیارہ روزہ دورہ“میں بیجنگ حکومت کے سامنے جھولیاں پھیلاتے رہے،کہ پاکستانی فوج پرزور دے،کہ بلوچستان میں اقتدار نیشنل پارٹی کو سونپاجائے۔اور ڈاکٹر مالک کو وزارت اعلی سپرد کیاجائے، تاکہ بلوچستان میں ”چینی انفراسٹکچر“ بلخصوص سی پیک سمیت چین کے اقتصادی سائیکل کے لئے راہ ہموار کی جاسکے۔وفد نے اس بات پر چینی حکومت کو متوجہ کرتے ہوئے کہاہے،کہ اگر نیشنل پارٹی حکومت کی باگ دوڑ سنبھالے گی توچینی منصوبوں کو سیکورٹی اور سٹیبلیٹی ملنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں جاری چینی منصوبہ جات، اور پراجیکٹس کی سست رفتاری اور گراوٹ کو بڑھوتری حاصل ہوگی۔
انہوں نے یہ عندیہ بھی دیاہے کہ نیشنل پارٹی کی حکومت سی پیک کے لئے سافٹ کارنر ثابت ہوگی۔ اس لئے کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے حقیقی نمائندہ جماعت ہے۔اور اس کے“Mass Roots“ مضبوط اور گہرے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں، اور اس اعتماد کے ساتھ میں یہاں نیشنل پارٹی کے دورہ چین کو ایکسپوز کرنا چاہوں گا،کہ ان کے ترجیحات میں بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت کی سپردگی سرفہرست ایجنڈا رہا ہے۔ اگر چہ وہ اپنے فیس بک آفیشل پیج پر، یا ریاستی میڈیا جو بیانیہ دے رہے ہیں۔ اس بیانیہ کے ساتھ ان کا یہ ایجنڈا مشروط طور پر اولیت رکھتاہے۔ آف دی ریکارڈمعائدات اور بات چیت کا غیر رسمی نکتہ اول یہی ہے، کہ نیشنل پارٹی کو اقتداری شراکت میں اہم حصہ دیا جائے۔ اور یہ ان کے واپسی دورہ کے بعد متعدد بیانات سے واضح ہے،کہ ان کے دورہ چین کے پس پردہ مقاصد کیاتھے؟ ایک مثال ہے کہ”جب بلبلہ پھٹتاہے تو جواری ننگے ہوجاتے ہیں“ یہی حال ان بے چاروں کاہے جو کٹھ پتلی اقتدار کے لئے چینی حکومت کے آگے اپنی سر پر راکھ ڈال کر،منتیں اور جھولیاں پھیلاتے ہیں۔
مندرجہ بالا صورتحال اور معلومات سے عمومی نتیجہ یہ اخذ کیا جاسکتاہے،کہ نیشنل پارٹی اپنی روزی روٹی کی چکر میں دلالی کے ہر مکروہ عمل کو عبور کرنے کے لے تیار ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نیشنل پارٹی ایک مافیا انٹر پرائز بن چکاہے۔ جن کے دامن بے شمار بد نمادھبوں سے داغدار ہے۔ اور یہ سیاسی مافیاایک بار پھر مجرمانہ طریقہ سے چین سے مشروط سیاسی لین دین اور لو، دو کے پالیسیوں پر ممکنہ تعاون کے طلبگار ہے۔
حالانکہ بلوچ قومی تحریک آزادی کی طاقت،فعالیت اور بلوچستان کی جنگ زدہ،متنازعہ اور مقبوضہ حیثیت کے باوجود اس طرح کی سٹہ
بازی کے لئے خود کو پیش کرنا حیران کن ہی نہیں بلکہ غیر اخلاقی،غیر سیاسی، اور غیر نظریاتی عمل ہے۔
نیشنل پارٹی کے لئے یہ سودا بہت مہنگا اور غیر فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ان کے یہ مکروہ کردار بلوچ سیاسی، تحریکی، نظریاتی اور سفارتی اقدار کے خلاف ہے۔ اور اس کے ممکنہ نتائج بہت خطرناک ہوں گے۔ نیشنل پارٹی بلوچ تحریک آزادی کے تیز رفتار پیش قدمیوں میں ٹشو پیپر کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔ان کے لئے گھاٹے کا سودا ہوگا، جیسے کے ”سمندر کے پانی سے خالص خوردنی نمک نکالنا یا ریت کے زروں سے پوراٹیم نکالنے“ کی مصداق ہوگی۔ سمندر سے خالص خوردنی نمک نکالنا یہ ایک پیچیدہ اور وسیع تکنیک، منطق، مہارت اور سائنسی سمجھ بوجھ کے ساتھ ہونے والا میکانکی عمل ہوتاہے۔ جب کہ نیشنل پارٹی اتنی آسانی سے ان متنازعہ اور ماورائے بلوچ مرضی منشاء معائدات کو عملی جامہ پہنانے کا ٹھیکہ لینا چاہتاہے۔ جیسے کہ بلوچستان کی آزادی کی تحریک کی باگ دوڑ ان کے ہاتھ میں ہیں۔
نیشنل پارٹی کی حیثیت بلوچ تحریک کے رو سے”زیرو ٹالرنس“ پر ہے۔ اس سے کوئی گاجر کی نرخ بھی نہیں پوچھتا۔ اس کی کیا حیثیت اور اختیارہے کہ بلوچ سرزمین کے حوالے سے کسی بیرونی توسیع پسند ملک کے معائداتی عمل میں شراکت دار کے حصہ سے کسی بھی قسم کا پیش رفت کریں۔؟
نیشنل پارٹی کے مکروہ اعمال کی بار باروضاحت کا مقصد ہ یہی ہے،کہ وہ بلوچستان کے متنازعہ حیثیت کے باوجود اگر ممکنہ طر پر کسی ایسے معائدہ کا حصہ بن بھی جاتاہے۔تو ان کے کٹھ پتلی فیصلوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ یہ کورے کاغذ کے معائدے محض علامتی ہوں گے۔ ان کا کوئی زمینی،قانونی، اور تحریکی حیثیت نہیں ہوگی، کیونکہ جدوجہد آزادی ایک عبوری ریاست کے مرحلہ سے گزر کر مستقبل کی آزاد ریاست کی تعمیر کا نعم البدل ہوتاہے۔
جو تنظیمیں اپنی وطن کی آزادی کے لے لڑرہے ہوتے ہیں، تو ان کا مقصد مستقل طور پر ایک خود مختیار ریاست کا قیام ہوتاہے۔ جو اسی عبوری مرحلہ سے گزر کر مکمل ریاستی آزادی تک جبر و بربریت کے خلاف لڑتے ہیں، وہ اپنے وطن کے حوالے سے داخلی،خارجی اور سفارتی تعلقات کے مالک اور اختیار دار ہوتے ہیں۔اور یہ سب اختیارات تعمیر ہوتے ریاست کے اجزاء ہوتے ہیں۔
اگر ہم نیشنل پارٹی کی منافقت، آزادی کی جدوجہد سے منحرف کردار، بلوچ نسل کشی میں حصہ داری، یا مجرمانہ خاموشی کو نظر انداز کریں، تو ہم آنے والے نسلوں کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔کہ ہم جانتے بوجھتے مروت میں بلوچ ہونے کے خاطر ان کے کرتوتوں پر پردہ ڈال کر تاریخی بے ایمانوں میں شمار کئے جائیں گے۔ یہ نیشنل پارٹی کی روایتی ذہنیت اور فطرت رہی ہے کہ بلوچستان میں کٹھ پتلی اقتدار کے حصول کے لے ہر سستے دام پر یہ خود کو بیچنے کے لئے ہمہ وقت تیارہیں۔ ڈاکٹر مالک اپنے دور حکومت میں پنجابی سٹبلشمنٹ کے ساتھ اپنی تعلقات کو مستحکم کرنے اور ان سے وفاداری کا سرٹیفکٹ لینے کے لے بلوچ آزادی دوست قوتوں کے خلاف آپریشن ”ضرب عضب“کا باقائدہ اعلان کرکے ریاست کے عسکری قوتوں کے آشیر باد سے حکومت کی، کیونکہ ریاست کو بھی ایسے بے ضمیر طبقے کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان کی قبضہ کو کٹھ پتلی پارلیمنٹ، یا پارٹی کے زریعہ جواز فراہم کرسکیں۔ حالانکہ نیشنل پارٹی کے دور میں جتنے کرپشن کئے گئے شاید کسی اور کے دور میں
ہو،لیکن بلوچ آزادی دوست قوتوں کے خلاف ڈاکٹر مالک اور نیشنل پارٹی کے کردار کے پیش نظر ان کے تمام تر جرائم اور گناہ معاف کردیئے گئے اور وہ اسے لئے محتسب نہ ٹہرے،کہ انہوں نے بلوچ نسل کشی میں ریاست کے ہم راہ رہے۔
نیشنل پارٹی سے اختلاف میرے لئے ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر مبنی نہیں،بلکہ ان کی بلوچ دشمنی اور وطن دشمنانہ کردار کا تناظر ہے کہ ان کے
آنکھوں کے سامنے ان کے دور حکومت میں بلوچ نوجوانوں کی آٹھ سو سے زائد مسخ شدہ لاشین ملی۔اور ہزاروں جبری گمشدگیوں کا شکار بنائی گئی۔ماؤں کے بہتے آنسو اور ان کے لخت جگر وں کی گمشدگی، اور نسل در نسل دہائیوں سے جاری بلوچ تحریک آزادی کے سنہری اور خونچکان روایات کو پس پشت ڈال کر ریاستی نسل کش پالیسیوں میں شراکت دار رہے۔ اور اس نمک حلالی سے ملنے والی شیئرز اربوں میں ہیں جو نیشنل نیشنل پارٹی معاوضہ کے طور پر وصول کی۔تاکہ وہ بلوچ تحریک کو ختم کرکے ریاستی قبضہ اور سی پیک جیسے منصوبوں کو تحفظ اور جواز بشخ سکے، کونسا علم؟ اور کونسا پولیٹیکل فلاسفی،،سوشل سائنس یا ماہر عمرانیات انہیں قوم دوستی کا سرٹیفکٹ بانٹتاہے؟۔جو اپنے ہی قوم و طن کے دشمنی میں ریاست کے ہم پلہ رہ کر ہر اول نفرت انگیزکردار کا حصہ بنے۔جو بلوچ قوم کو سیاسی، سماجی جغرافیائی، نظریاتی اور اخلاقی طور پر نقصان دینے کے عمل میں شریک ہو، کیا وہ قوم دوست کہلانے کے لائق ہوسکتے ہیں؟ قطعا نہیں۔!بلکہ وہ اپنے منفی اعمال اور قوم دشمنانہ اعمال کی بنیاد پر”تاریخ کے پٹکھار“ میں زندہ لاش کی طرح عبرت کے نشان بنیں گے۔ان کے لئے بلوچ عوام اور بلوچ تحریک آزادی کے نیوکلیس میں کوئی سپیس اور خالہ جگہ نہیں۔اوران کا مستقبل حال کی طرح بند، اور تنگ و تاریک گلیوں میں بھٹکتا ہوا دکھائی دے گا۔
ان کی اقتدار ی کاسہ لیسی، کمیشنز اور دلالی کے عوض اپنی خدمات پیش کرنے کے دورہ چین اور ملاقاتیں،پاکستانی سٹبلشمنٹ کی قبضہ اور چین کی لوٹ مارکو جواز فرائم کی ناممکن کوشش ہے۔ اگر چین کے کہنے پر انہیں اقتدارسپرد بھی کیاجائے، تب بھی یہ ”بکاؤ سکے“بلوچ تحریک آزادی اور بلوچ رائے عامہ کو اپنی آزادی شناخت اور قومی بقاء کی جدوجہد سے دستبردار نہیں کرسکتے۔یہ صرف چین کو فریب دے سکتے ہون گے۔ لیکن بلوچ تحریک کے خلاف ان کی دال نہیں گلتی۔
یہ خود زندگی اور موت کے بیچ اپنی ناٹکوں کے گرداب میں آلودہ ہوچکے ہیں۔ ان کے نامہ اعمال کا گورکھ دھندہ تاریخ کے سامنے عریاں ہیں۔ بقول میکسم گورکی کہ”اس طرح کے لوگ سیاسی چور ہے۔ جو آپ کے مستقبل آزادی خواب اور زندگی کو چوری کرتے ہیں“۔ ایسے وائٹ کالر مجرم یا دوسرے الفاظ میں ریاست کے لئے”خاموش سیاسی دستہ“کے طور پر کام کرنے والی جماعتیں اور افرادہے۔ جو قومی آزادی کی نشود نما،حکمت عملی اور سرگرمیوں سے واقف ہوکر بھی، بھیگی بلی بن کرریاست کی دلالی کرتے ہوئے تحریک کو سبوتاژ کرنے میں امپریلزم کے آلہ کار ہوتے ہیں۔
یہ قدرت کا قانوں ہے کہ جب تک قبضہ گیریت موجود ہے، اس کے خلاف نجات کی جدوجہدہر حال میں جاری رہتی ہے۔”ویل ڈیورنٹ لکھتاہے کہ ہر قوم اپنی وجود آزادی اور بقاء کے لئے جنگ لڑتاہے۔جس طرح کے فطرت کی دوسرے مخلوقات کی زندہ نسلیں اپنی بقاء کے لئے لڑتے ہیں۔ وہ لکھتاہے کہ جدوجہد ہی زندگی کی روح ہے۔ جدوجہد کے بغیر کوئی قوم زیادہ دیر تک اپنی وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔اور وہ قومیں جو اپنی بقاء کے لئے نہیں لڑتے وہ دھرتی کے لئے بوجھ بن جاتے ہیں“
ہمیں کامل یقین ہے کہ بلوچ شہیدوں کا خون رائیگان نہیں ہوسکتا۔بلکہ ان کے لہو کی آبیاری سے جاری آزادی کی تحریک اپنی منزل ضرور حاصل کرے گی۔جنگ جب فیصلہ کن اور مسلسل عمل سے گزرتاہے تو اپنے منزل کے تعین کرنے کے قابل ہوجاتاہے۔ تو اسے کوئی بھی
سامراجی و استعماری طاقت شکست نہیں دے سکتا۔ ایسی ناقابل شکست جدوجہد ناگزیر طور پرقربانیوں کے مسلسل عمل کے نتیجہ میں اپنی منطقی اہداف ضرور حاصل کرتاہے،چاہے ریاست اور اس کے کارپوریٹ میڈیا، کٹھ پتلی پارلیمنٹ، کٹھ پتلی عدلیہ، سیاسی مافیاز جتنی بھی پروپیگنڈہ کرے، جبر و بربریت جاری رکھے، نسل کشی کرے۔
لیکن یاد رکھاجائے کسی شہید کی سانس تھم جانے یا جسمانی طور پر بچھڑ جانے سے تحریک کمزور اورسست نہیں ہوسکتا۔بلکہ شہیدوں کے لہو میں شامل انقلابی روح، ان کی تعلیمات، ان کی شعوری قربانیاں،نظریات تجزیات، لائحہ عمل، حکمت عملی تاریخ آزادی کے بہاؤ کے مناظر کواور حسین اور جاندار بنادیتے ہیں۔شہیدوں کی نظریاتی گونج ،ان کی جرائت ان کی قربانی،ان کی فدائیانہ عمل،ان کی جفاکشی اور بے لوث کردار اوران کے ساکت اجسام کی کوکھ سے ایک نئی نسل کا جنم ہوتاہے۔ اور یہ جنم در جنم کا عمل آزادی کے منطقی حصول تک جاری رہتاہے۔یہ فطرت کے قوانین ہے کہ ہر حیاتی وجود اپنی اجتماعی بقاء کی جنگ لڑتی ہے۔ اور ہر حیاتی وجود پروٹوپلازم کے بقاء کو یقینی بنانے کے لئے جدوجہد کرتاہے۔حیات یعنی زندگی کا محور پروٹو پلازم ہے اور کائنات کا محور توانیاں ہیں جو خلاء کے ہاتھوں تباہ ہونا نہیں چاہتے اور یہ یقینی ہے پروٹو پلازم ایک جاندار خلیہ کے زندگی کے لئے اہم ہوتاہے، ”ہیگل کہتاہے کہ تاریخ کا سفر درحقیقت آزادی کے حصول کا سفر ہوتاہے تاکہ قومیں اپنی بقاء اور آزادی کو قانونی تحفظ دے سکیں اور اسی خاطر ریاست وجود میں آئی“
نوٹ اگلے قسط میں ہم چین کی موجودہ معاشی ترقی اور مارکیٹ اکانومی کا جائزہ لیں گے یہ ترقی نظریاتی، فطری، سرحدی،ْقدرتی تناظر کا پیش خیمہ ہے یا توسیع پسندی، قبضہ گیریت، لوٹ مار یا سامراجی و استعماری پالیسیوں پرمبنی ہے یا کچھ اور؟(جاری ہے)