ڈاکٹر نوکاپ بلوچ کا قتل پاکستانی فوج کے ڈیتھ اسکواڈ کی سرحد پار کارروائی ہے۔ پانک رپورٹ

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے انسانی حقوق کے ادارے پانک نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ڈاکٹر عبدالرشید بلوچ عرف نوکاپ بلوچ کے ٹارگٹ کلنگ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نوکاپ ایک ڈاکٹر، معلم، سیاسی کارکن اور بی این ایم کی سینٹرل کمیٹی کے رکن تھے۔ ان کے خاندان کی فراہم کردہ اور پانک ٹیم کی تصدیق شدہ معلومات کے مطابق، ڈاکٹر نوکاپ کو 11 ستمبر 2026 کی صبح مغربی بلوچستان کے علاقے شمسر (حق آباد) میں ان کی رہائش گاہ پر قتل کیا گیا۔ ایک عینی شاہد نے پانک کو بتایا کہ دو مسلح افراد مریض بن کر ان کے مہمان خانے پہنچے اور پھر فائرنگ کر کے انھیں قتل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق پاکستانی فوج کی سرپرستی میں کام کرنے والے ایک ڈیتھ اسکواڈ سے تھا۔

ڈاکٹر نوکاپ 1982 میں گنڈاچائی، کولواہ، ضلع آواران میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تعلیم اور عوامی خدمت کے لیے وقف کیا۔ پانک کے مطابق انہوں نے کئی سال تک قریبی گاؤں کنیچی میں رضاکارانہ طور پر بچوں کو پڑھایا، جہاں مقامی اسکولوں میں اساتذہ کی کمی تھی، اور بعد میں اپنی برادری کو مفت طبی علاج فراہم کیا۔ وہ 2010 میں کولواہ ریجن کے ابتدائی ارکان میں سے ایک کے طور پر بی این ایم میں شامل ہوئے، گیشکور زون کے نائب صدر اور پھر صدر رہے، بعد ازاں گنڈاچائی زون کے صدر منتخب ہوئے، اور 2022 میں بی این ایم سینٹرل کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے، اور اپنی شہادت تک اسی ذمہ داری پر فائز رہے۔

رپورٹ میں ڈاکٹر نوکاپ کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کے خاندان کے مطابق 2016 میں ایک فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج نے ان کا گھر مسمار کیا اور ان کی املاک لوٹ لیں، جبکہ ان کی جان لینے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ مسلسل دھمکیوں کے باعث وہ 2018 میں اپنا گھر چھوڑ کر مغربی بلوچستان منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ جبری بے دخلی کے باوجود وہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بلوچ پناہ گزینوں اور مقامی آبادی کو مفت طبی سہولیات اور تعلیم فراہم کرتے رہے، جس سے کمزور خاندانوں کو وہ بنیادی سہولیات میسر آئیں جو بصورت دیگر ان کی پہنچ سے باہر تھیں۔

پانک نے کہا کہ یہ قتل پاکستان سے باہر ہونے کے باعث بلوچ سیاسی کارکنوں اور پناہ گزینوں کو سرحد پار نشانہ بنانے کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ تنظیم نے ذمہ داروں کی شناخت اور وابستگی، کمانڈ کے سلسلے، حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد، اور پاکستانی ریاستی، فوجی، انٹیلی جنس یا سیکیورٹی اداروں سے کسی بھی تعلق کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

پانک نے زور دیا کہ بے گھر برادریوں کی خدمت کرنے والے طبی ماہرین اور معلمین کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے، اور صحت اور تعلیم کی خدمات فراہم کرنا کسی کو بھی ظلم یا تشدد کا نشانہ بنانے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

مہلب بلوچ کی وی بی ایم پی کیمپ آمد، اپنے جبری لاپتہ والد واحد کمبر کے کوائف تنظیم کے سپرد کر دیئے

بدھ اکتوبر 28 , 2026
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6402ویں روز بھی جاری رہا۔ آج احتجاجی کیمپ میں مہلب بلوچ نے شرکت کی اور اپنے والد واحد کمبر بلوچ کی جبری گمشدگی سے متعلق […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ