
بلوچستان کے علاقے بلیدہ میں پاکستانی فوج کے ایک کیمپ پر خواتین جنگجوؤں کے حملے اور ناکہ بندی کرکے گزرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، بلیدہ کے علاقے الاندور میں پاکستانی فوج کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حملے میں خواتین جنگجوؤں کی بڑی تعداد شریک تھی اور کارروائی کافی دیر تک جاری رہی۔
دوسری جانب، بلیدہ کے علاقے میناز میں خواتین جنگجوؤں کی جانب سے ناکہ بندی قائم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اس دوران وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی گئی۔
اطلاعات ہیں کہ اس دوران خواتین جنگجوؤں نے عوام سے خطاب بھی کیا۔
خیال رہے لوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) کے خواتین جنگجوؤں کے ایک یونٹ “کاڈ (کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن)” کی جانب سے اس سے قبل تربت کے علاقے جوسک، ضلع واشک، ضلع قلات اور ضلع خضدار سمیت دیگر علاقوں میں بھی فوجی کیمپوں کو نشانہ بنانے اور مختلف مقامات پر ناکے لگا کر گاڑیوں کی تلاشی لینے کی اطلاعات موصول ہوئیں تھیں۔
حالیہ واقعے کے حوالے سے تاحال کسی تنظیم کی جانب سے باضابطہ طور پر ذمہ داری قبول کیے جانے کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ایک وڈیو میں خاتون جنگجو کو عوام سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کا چہرہ بی ایل ایف کے جھنڈے سے ڈھکا ہوا ہے۔
واقعے کے حوالے سے پاکستانی حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
