سی ٹی ڈی نے مزید 14 زیر حراست افراد کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے بلوچستان اور کراچی میں حالیہ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 19 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی مبصرین نے ان واقعات کو مبینہ جعلی مقابلے قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے علاقے بارکھان میں کارروائی کی گئی، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 6 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام سیکیورٹی اہلکار محفوظ رہے۔

دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے درخشاں میں کارروائی کے دوران 8 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک افراد سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا اور ان کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے بتایا جا رہا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

گزشتہ روز کراچی میں بھی 3 افراد کو مبینہ مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان کی شناخت پہلے سے زیر حراست افراد کے طور پر کی گئی، جس کے بعد واقعے کی نوعیت پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ماضی میں بھی سی ٹی ڈی کی متعدد کارروائیوں کو مشکوک قرار دیا گیا، جہاں مبینہ مقابلوں کے نام پر پہلے سے لاپتہ افراد کو ہلاک کیے جانے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے ریاستی اداروں پر پہلے بھی تنقید ہوتی رہی ہے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ