بلوچی زبان کے نامور اور انقلابی لہجے کے شاعر مجید عاجز کو آج ان کے آبائی گاؤں بالیچاہ کے مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

مرحوم کی میت عمان کے شہر مسقط سے کراچی منتقل کیے جانے کے بعد بذریعہ ایمبولینس بالیچاہ پہنچائی گئی تھی۔ نمازِ جنازہ اور تدفین میں اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب، سیاسی و سماجی شخصیات اور ادبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ مجید عاجز گزشتہ جمعہ کی صبح مسقط میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ ان کی اچانک وفات نے نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ پوری بلوچی ادبی برادری کو سوگوار کر دیا۔
مجید عاجز کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالیچاہ سے تھا۔ وہ اپنی شاعری میں رومانوی لہجے کو انقلابی رنگ کے ساتھ پیش کرنے کے باعث نوجوان نسل میں بے حد مقبول تھے۔ جلاوطنی کے کرب، دھرتی سے محبت اور آزادی کی تڑپ ان کے کلام کا نمایاں حوالہ رہے۔
ادبی و سماجی حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہم میں نہیں رہے، تاہم ان کا فکر و فن اور انقلابی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔
