
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے ہفتہ 07 فروری کو انسدادِ دہشت گردی عدالتنمبر 1 میں ہونے والی جیل ٹرائل کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی رویہ واضح جانبداری اور تعصب کا عکاس تھا، جو منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
بیان کے مطابق سماعت کے دوران عدالت کے رویے نے دفاعی وکلاء اور ملزمان کے ساتھ غیر پیشہ ورانہ اور معاندانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ جج کی جانب سے بار بار مداخلت، تحقیر آمیز ریمارکس اور دفاع کے مؤقف کو سننے سے انکار نے کارروائی کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔
کمیٹی کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کارروائی کے دوران اپنے تحریری اعتراضات جمع کرواتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعدد بار عدالت کی جانب سے دفاعی وکلاء کے ساتھ بدسلوکی اور ایسے احکامات کا مشاہدہ کیا جو بنیادی حقوق اور آئین کے آرٹیکل 10-اے کی روح کے خلاف تھے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز اور سنگین بے ضابطگیوں کے مترادف ہیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ جب ڈاکٹر مہرنگ بلوچ نے عدالتی جانبداری پر اعتراض اٹھایا تو جج محمد علی مبین نے سخت لہجے میں کہا: ” تم اور تمہارے وکلاء کی بات کون سنے گا؟ تمہاری آواز سننے والا کوئی نہیں۔” بی وائی سی کے مطابق ایسے ریمارکس عدالتی اخلاقیات اور انصاف کے تقاضوں سے مکمل طور پر متصادم ہیں۔
دفاعی وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ جب ملزم کو جج پر اعتماد نہ رہے اور جانبداری کے شواہد موجود ہوں تو قانونی طور پر کیس کو اعلیٰ عدالت کے رجسٹرار کو ریفر کرنا جج کی ذمہ داری ہوتی ہے، تاہم ATC جج نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
بی وائی سی نے کہا کہ انہیں انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 1پر کوئی اعتماد نہیں رہا اور یہ مقدمہ صرف ان کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ آئین، قانون اور شہری حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف مقدمات ان کی پرامن سیاسی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں—خصوصاً جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت اقدامات اور بلوچستان میں دیرینہ ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے—کا نتیجہ ہیں۔ کمیٹی کے مطابق ریاست اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے قانونی ہتھکنڈوں کا استعمال بڑھا رہی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اعلیٰ عدلیہ سے فوری نوٹس لینے، منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضوں کو یقینی بنانے اور جاری عدالتی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد مبصرین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان مقدمات کی نگرانی کریں اور پاکستان میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔
