
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں سیکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جہاں گزشتہ تین چار سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق شہر کا زمینی رابطہ منقطع ہے جبکہ مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فضائی اور ڈرون کارروائیاں کی جا رہی ہیں، تاہم اب تک شہر کا مکمل کنٹرول بحال نہیں کیا جا سکا۔ ان کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
علاقائی ذرائع کے مطابق فورسز نے خاران کے قریب زمینی پیش قدمی کی کوشش کی، تاہم شدید مزاحمت کے باعث انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ دو سے تین روز کے دوران متعدد ڈرون حملے کیے گئے۔
ادھر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مربوط کارروائیوں کے ذریعے نوشکی میں مختلف سرکاری تنصیبات، پولیس تھانوں اور سیکیورٹی اداروں کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
نوشکی میں صورتحال کشیدہ ہونے کے باعث شہر میں امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ کوئٹہ اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ نوشکی کی بندش کے سبب ان کے رشتہ دار، بالخصوص کیڈٹ کالج نوشکی کے طلبہ، وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین روز سے طلبہ تک کوئی امداد یا رابطہ ممکن نہیں ہو سکا، جس کے باعث شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ریسکیو اور انخلا کے اقدامات کیے جائیں تاکہ بچوں کو بحفاظت نکالا جا سکے۔
