
تحریر: این کیو بلوچ
یہ وہ تلخ، خون آلود سچ ہے جو ایوانوں، محفلوں اور درباروں میں گونجنے نہیں دیا جاتا، کیونکہ اس کی ایک چیخ تختوں کو ہلا دیتی ہے، تاجوں کو گرا دیتی ہے اور ظالموں کی نیند چھین لیتی ہے۔ جو ہاتھ سکۂ زر کی چمک سے اندھے ہو چکے ہوں، وہ مٹھی بغاوت کی کبھی نہیں بنتے۔
جو انگلیاں مراعات کے میٹھے زہر سے سیاہ پڑ چکی ہوں، وہ ظلم کے خلاف کبھی آگ نہیں اگلتی، صرف دھواں اگلتی ہیں؛ مصلحت کا گندا دھواں، جو عوام کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ جلن پیدا کرتا ہے۔
انقلاب بھوک اور پیاس مانگتا ہے، وہ بھوک جو پیٹ کی نہیں، روح کی ہو، جو راتوں کو جگائے رکھے، جو خوابوں کو خون سے رنگ دے۔ انقلاب خوف کا سامنا مانگتا ہے، وہ خوف جو دل کی دھڑکن تیز کر دے، جو آنکھوں میں آنسو خشک کر دے، جو ہر سانس میں موت کی بو لائے۔ انقلاب سب سے بڑھ کر ضمیر کی آزادی مانگتا ہے، وہ آزادی جو وظیفے کی زنجیروں سے آزاد ہو، جو عہدوں کی قید سے نکل آئے، جو مراعات کے جال کو چیر کر نکل آئے۔ وظیفہ لینے والا شخص اب مزید انسان نہیں رہتا، وہ نظام کا حصہ بن جاتا ہے، نظام کا ہتھیار بن جاتا ہے، نظام کا غلام بن جاتا ہے۔
وہ زنجیروں کو “سہارا” کہتا ہے، غلامی کو “استحکام” کا نام دیتا ہے، ظالم کے تخت کو “قومی سلامتی” کہہ کر چومتا ہے اور مظلوم کی چیخ کو “غداری”، “دہشت گردی” یا “بیرونی سازش” کا لیبل لگا دیتا ہے۔ اس کی زبان میں سچ کی جگہ جھوٹ، درد کی جگہ سکون اور بغاوت کی جگہ مصلحت ہوتی ہے۔
حکمران جانتے ہیں کہ بندوق سے زیادہ خطرناک سوچ اور سچ ہوتا ہے۔ سوچ جو جاگ اٹھے تو زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں، سوچ جو بیدار ہو تو تخت ہل جاتے ہیں، اس لیے وہ سوچ خرید لیتے ہیں؛ چند نوکریوں سے، چند عہدوں سے، چند مراعات سے، چند لاکھوں روپوں سے۔ چند سکوں کی چھن چھناہٹ میں مزاحمت دفن ہو جاتی ہے۔
چند عہدوں کی چمک میں بغاوت دم توڑ دیتی ہے، چند مراعات کی مٹھاس میں ضمیر سوتا رہتا ہے اور جب جاگتا ہے تو شرم سے سر جھکا لیتا ہے۔
دربار میں بیٹھا وہ شخص عوام کی بات کرے بھی تو اس کی آواز میں بغاوت نہیں ہوتی، مصلحت ہوتی ہے، دھوکہ ہوتا ہے، بیچنے کی بو آتی ہے۔ وہ ظالم کے سامنے جھکتا ہے، مظلوم کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے۔ وہ چیخوں کو دباتا ہے، آنسوؤں کو پونچھتا ہے اور خون کو “ضرورت” کا نام دے کر بہنے دیتا ہے۔ انقلاب ان لوگوں کا نہیں جو اقتدار کے سائے میں پلتے ہیں، مراعات کی چادر اوڑھ کر سوتے ہیں، ظلم کی میز پر بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ انقلاب ان کا مقدر ہے جو خالی جیب رکھتے ہیں مگر ضمیر بھرا ہوا ہو، جو اندھیری راتوں میں بھی سچ کا پرچم اٹھاتے ہیں، چاہے اس پر خون لگ جائے، چاہے جیل کی سلاخیں اسے چھو لیں، چاہے موت اسے گلے لگا لے اور چاہے تشدد کی دیواریں اسے دبا دیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو بلوچستان کی گلیوں میں، تربت کی سڑکوں پر، آواران کی پہاڑیوں میں، گوادر کی بندرگاہوں پر، خضدار کی وادیوں میں اور پنجگور کی تنہائی میں سچ بولتے ہیں۔ وہ جو جبری گمشدگیوں کے خوف میں بھی نام لیتے ہیں، ماورائے عدالت قتلوں کے سامنے بھی سر اٹھاتے ہیں اور نسل کشی کے تسلسل کو “بلوچ نسل کشی” کہہ کر پکارتے ہیں۔
حکمران جانتے ہیں کہ تعلیم یافتہ بلوچ سب سے بڑا خطرہ ہے، کیونکہ وہ سچ اور جھوٹ کو پہچانتا ہے، ظلم کو “ظلم” نام دیتا ہے اور مزاحمت کو منظم کرتا ہے۔ اس لیے وہ (ریاست) بندوق چلاتے ہیں، گولیاں برساتے ہیں، لاشیں مسخ کرتے ہیں، مگر خون سے بجھائی گئی مشعلیں نئی آگ جلاتی ہیں۔ ہر دور کا انقلابی حکمرانوں کی آنکھ کا کانٹا ہوتا ہے، ہر درباری عوام کی آنکھوں میں بےنقاب ہو جاتا ہے، کیونکہ جہاں وظیفہ قبول کیا جائے وہاں بغاوت دفن ہو جاتی ہے۔ جہاں ضمیر جاگ اٹھے، جہاں خون ابل پڑے، جہاں چیخیں آسمان چیر دیں، جہاں ماں بیٹے کی لاش اٹھا کر نعرہ لگائے، جہاں بہن بھائی کی یاد میں قلم اٹھائے، وہیں انقلاب پیدا ہوتا ہے۔
ضمیر جاگے گا تو تخت ہلیں گے،
ضمیر جاگے گا تو زنجیریں ٹوٹیں گی،
ضمیر جاگے گا تو نسل کشی رکے گی،
اور اگر ضمیر جاگ گیا
تو انقلاب آئے گا۔
