
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہفتے کے روز سکیورٹی صورتحال شدید کشیدہ رہی، جہاں متعدد اضلاع سے مسلح جھڑپوں، دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق بعض مقامات پر بلوچ آزادی پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جبکہ سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق خاران، گوادر، کوئٹہ، نوشکی، پسنی اور دالبندین سمیت کئی علاقوں میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ دارالحکومت کوئٹہ کے حساس علاقے ریڈ زون میں بھی مختلف مقامات پر فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
نوشکی میں سینٹرل جیل کے قریب شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ ایف سی ہیڈکوارٹر کے اطراف میں بھی جھڑپیں جاری رہنے کی خبریں ہیں۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سی ٹی ڈی آفس کو نشانہ بنایا گیا، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں مسلح افراد کی جانب سے پولیس پر حملے کی اطلاعات ہیں، جہاں پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے اور متعدد اہلکاروں کے زخمی ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اسی طرح قلات میں فورسز کے ایک کیمپ کے داخلی دروازے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر پولیس موبائل پر حملے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ گاڑی مکمل طور پر جل گئی۔ ریلوے اسٹیشن کے اطراف سے بھی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ادھر بلوچ لبریشن آرمی کے جانب سے بیانات اور سوشل میڈیا پیغامات میں مختلف اضلاع میں کارروائیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
