
بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے کے تحت، بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچار اب تک بلوچستان کے دس شہروں میں بیک وقت منظم حملے شروع کرچکے ہیں۔ کوئٹہ، نوشکی، مستونگ، دالبندین، قلات، خاران، گوادر، پسنی، تمپ اور بلیدہ میں سرمچاروں کی منظم موجودگی کے ساتھ دشمن کے عسکری اور انتظامی ڈھانچوں کو نشانہ بناکر شدید نقصانات سے دوچار کیا گیا ہے۔ مختلف شہری علاقوں میں کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کی نقل و حرکت محدود ہوچکی ہے اور متعدد مقامات پر دشمن فوج کو پیچھے دکھیل دیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ آپریشن ھیروف کے دوران کوئٹہ، پسنی، گوادر، نوشکی اور دالبندین میں قابض فوج اور آئی ایس آئی کے کیمپوں پر فدائی حملے کیئے گئے ہیں۔ بی ایل اے کی ایلیٹ فدائی یونٹ مجید بریگیڈ دشمن فوج کے کیمپوں کے اندر داخل ہونے اور ان کے بڑے حصوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، جبکہ ان مقامات پر شدید لڑائی جاری ہے۔ ان کارروائیوں کے باعث دشمن کے حساس عسکری مراکز براہِ رأست دباؤ میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دیگر شہروں اور علاقوں میں بھی سرمچار منظم انداز میں داخل ہیں۔ مستونگ، قلات اور خاران کے شہری علاقوں میں فوج اور پولیس کو پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ گوادر اور پسنی میں سرمچاروں کی موجودگی اور مربوط حملوں نے دشمن کو محدود کردیا ہے، اور ساحلی پٹی میں دباؤ برقرار ہے۔ تمپ اور بلیدہ میں بھی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں دشمن کی نقل وحرکت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران کوسٹل ہائی وے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث قابض قوت کی لاجسٹک نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔ اس شاہراہ پر دباؤ کے نتیجے میں دشمن کے روزمرہ عسکری انتظامات میں خلل پڑا ہے اور مختلف مقامات پر اس کی نقل و حرکت مکمل مفلوج ہوچکی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں بلوچ لبریشن آرمی کے مختلف یونٹس ایک منظم اور مربوط انداز میں شریک ہیں۔ فتح اسکواڈ، مجید بریگیڈ، انٹیلی جنس ونگ زراب اور ایس ٹی او ایس ( اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ) باہمی ہم آہنگی کے ساتھ مختلف شہروں اور علاقوں میں پیشقدمی کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ھیروف کا دوسرا مرحلہ پورے بلوچستان کے مختلف خطوں میں جاری ہے۔ فدائی حملوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں اور اہم راستوں پر سرمچاروں کی منظم موجودگی برقرار ہے۔ اس دوران اب تک دشمن فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک کیئے جاچکے ہیں۔ مزید تفصیلات میڈیا میں جلد جاری کی جائینگی۔
