
کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6063ویں روز میں داخل ہوگیا۔
احتجاجی کیمپ کے دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا، جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ شرکاء نے خصوصاً بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ تنظیم ملکی اداروں کے ماورائے قانون اقدامات کے خلاف پرامن اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وی بی ایم پی کا یہ پرامن احتجاج اور قانونی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک جبری گمشدگیوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا اور تمام لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کرایا جاتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیاں نہ صرف آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق پر بھی سنگین حملہ ہیں، جن کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
