شہید سرمچار جلیل عرف جورک کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بی ایل ایف 

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچار جلیل بلوچ ولد منیر احمد دورانِ گشت دشمن کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگ کے دھماکے میں شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ترجمان نے کہا کہ سرمچار جلیل بلوچ عرف جورک ولد منیر احمد سکنہ دِزدِر دشت اگست 2023 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شامل ہوئے اور شہری نیٹ ورک کا حصہ بنے۔ وہ تنظیم کے انٹیلی جنس ونگ میں خدمات انجام دیتے رہے۔ 3 اکتوبر 2024 کو انہیں کیمپ منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے نہایت جفاکشی لگن اور سرگرمی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں۔ انہوں نے کہا کہ تئیس جنوری کو جلیل احمد تنظیمی امور کے سلسلے میں ساتھیوں کے ہمراہ مند کے پہاڑی علاقے میں گشت پر تھے کہ راستے میں دشمن فورسز کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگ کے دھماکے کا نشانہ بن کر شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں علاج کی غرض سے محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ شہید سرمچار جلیل عرف جورک کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچ شہداء کے آزاد بلوچستان کے مشن کو ہر صورت پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کراچی: زاہد بارکزئی جبری طور پر لاپتہ اہلخانہ کا بازیابی کا مطالبہ

منگل جنوری 27 , 2026
کراچی شہرِ قائد سے پاکستانی فورسز نے ایک شخص کو جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق زاہد بارکزئی نامی شخص کو 27 جنوری 2026 کو رات تقریباً دو سے ڈھائی بجے کے درمیان سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ