چند تکلیف دہ جملوں میں لپٹا 25 جنوری

تحریر: سفیر بلوچ

بلوچستان میں تواتر سے جاری نسل کشی اور ریاستی جبر کے حوالے سے پورے بلوچ سماج کا جامع تجزیہ اور طویل استحصالی تاریخ اور اس سے پڑنے والے اثرات پر بات کرنے کے بجائے اگر وہ چند جملے جو ان تکالیف اور کرب سے گزرنے والوں نے ادا کیے دہرائیں جاہیں تو میرے خیال میں انسانی حقوق کے لیے درد دل رکھنے والے اسی ایک جملے میں چھپے پورے سماج کی درد اور تکلیف کو سمجھ سکتے ہیں۔

گو کہ ریاستوں اور ان کے مفادات اور مہلک پالیسیوں کے سامنے ایک قوم کا خاتمہ ایک تہزیب کی گمشدگی ایک فرد کا کرب اور اس سے وابستہ سماجی رشتوں پر پڑنے والے بد تر اثرات کوئی معنی نہیں رکھتے لیکن اس کے باوجود اس تکلیف اور درد کو بیان اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ تکلیف دہ جملے لمحات اور کرب انسانی تاریخ کا حصہ رہے ہوسکتا ہے آنے والے وقتوں میں انسانوں کو آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع فراہم ہوسکے اور وہ اپنی قربانیوں اور اپنی تاریخی مزاحمت کو نشان راہ بنا کر آزاد زندگی جینے کے لیے راہوں کا تعین کر سکیں۔

آج جب دنیا میں چرند پرند پودوں گلیشیرز آبی گزرگاہوں اور ماحولیات کے تحفظ کیلئے مہم چلاہے جا رہے ہیں تو ایسے میں کیا مہزب اور انسانیت کے لیے درد دل رکھنے والے حلقوں اور طاقتوں کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اس خطے (بلوچستان) میں بسنے والے قوم بلوچ کی حالت زار پر توجہ دیں سکیں. وہ ان قبرستانوں پر لگے عددی ہندسوں پر بھی نظریں ڈال سکیں جو جیتے جاگتے انسان تھے. ایک ایسے سماج کے جیتے جاگتے انسان جہاں کے بزرگ انجان شخص کے لب و لہجہ اور درشم سے اس کے بزرگوں کی شناخت کر لیتے ہیں اور شجرہ نکال کر سامنے رکھ دیتے ہیں ایسے سماج اور ایسی سرزمین کے باسیوں کو ایک عددی ٹیگ لگا کر کیسے گمنام کہا جا سکتا ہے۔

جب ہم بلوچستان کے لیے لفظ حالت زار استعمال کرتے ہیں تو پڑھنے والے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ بلوچستان ایک مفلوک الحال علاقہ جہاں کے لوگوں کی غربت اور مفلوک الحالی کی وجہ سے بدن لاغر اور گال پچکے ہوئے ہوں. ظاہراً ان کی ایسی جسمانی ساخت ہو سکتی ہے لیکن اس کا پس منظر اور وجوہات وہ نہیں ہیں جو اس خاکہ کو ذہن میں رکھ کر پیدا ہوسکتے ہیں یہاں بسنے والے بلوچوں کے لیے اس مفلوک الحالی اور حالت زار کے پیچھے وجوہات حد درجہ تکلیف دہ ہیں مگر نظر رکھنے تجزیہ کرنے اور سماجی اتھل پتھل پر باریکی سے نظر رکھنے والوں کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہونگی. لفظ دلچسپی اس لیے کہ خطہ بلوچستان یا بلوچ سماج قید اور گھٹن جیسے الفاظ کے مفہوم اور نکات کی مکمل عکاسی کرتی ہے. مثلاً بلوچ اس لیے مفلوک الحال نہیں کہ یہاں غربت کے عفریت نے پنجے گاڑھ رکھے ہیں اور یہ دنیا سے ایک کٹا ہوا ملک ہے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی حالت تشویشناک ہے. بلکہ یہ خطہ سمندری اور خشکی کے راستوں سے دنیا سے مربوط ایک اہمیت کے حامل اسٹریٹجک لوکیشن پر واقع ہے تو یہ وجہ رد ہو جاتی ہے کہ بلوچ سرزمین غربت زدہ اس لیے نہیں کہ یہ دنیا سے کٹا ہوا ہے۔

بلوچستان اس لیے بھی مفلوک الحال اور غربت زدہ نہیں ہے کہ یہاں خوراک کی قلت اور گندم ناپید ہے کہ ایک انسان کو جینے کے لیے اور سانس کی ڈور برقرار رکھنے کے لیے دو وقت کی روٹی پیٹ بھرنے کے لیے نصیب نہ ہو بلکہ وسیع و عریض میدان اور کشت و کشار کے قابل زمینیں ہیں جو نہ صرف گندم بلکہ انواع و اقسام کے پیداوار دینے کے قابل ہیں. تو کیا زمین اور پانی تو دستیاب ہے مگر ماحولیات زہر آلود ہے جو پودوں اور میوہ جات کو پنپنے دینے کے لیے ناموافق ہے ایسا بھی نہیں ہے بلکہ فطرت کی فیاضی سے ہر طرح کے موسم اس سرزمین پر ہوتے ہیں. یہ تو صرف زمین کے اوپر انسانی محنت سے اگائے جانے کے قابل پیداوار ہیں زمین کے اندر بھی ایسے ہر طرح کے معدنیات اور قیمتی ذخائر بھی موجود ہیں جو نہ صرف یہاں کے باسیوں کو اچھی خوشحال زندگی دینے کے کافی بلکہ اتنے زیادہ مقدار میں موجود ہیں جو دیگر اقوام کو بھی فائدہ دے سکتے ہیں. جب پیداواری زمینیں، وسیع سمندر دنیا سے مربوط خشکی کے راستے ماحولیات موافق اور سب سے بڑی بات یہ یہاں کے باسی زندگی کے شعور سے مزین ہیں تو پھر ایسا کیا ہے کہ بلوچ کے لیے آج بھی مفلوک الحال غربت زدہ اور حالت زار کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں تو اس کا جواب ہے ریاستی جبر گھٹن اور غلامی . ریاست کی جانب سے اپنی حکمرانی کی طوالت کے لیے بلوچ قوم کے سماجی اور سیاسی شعور کو وحشی جاہل اور مفلوک الحال جیسے الفاظ کے پہناوے دینا اور یہاں کے وسائل پر اپنے پنجے گاڑھتے ہوئے یہاں کے عوام کو بد تر زندگی گزارنے پر مجبور کرنا ریاستی مفادات ہیں اور نیکروپالیٹیکس کی بد ترین عکاسی ہے یہ ظاہری حالات ہیں جو بلوچ سماج پر ایک نظر ڈالنے سے ہی دیکھے جا سکتے ہیں اس جبر کا بلوچ سماج پر جزباتی اثرات اور تکلیف دہ یادداشتیں تو اس سے بھی زیادہ زیادہ کربناک ہیں۔

جس طرح میں نے پہلے کہا کہ بلوچستان میں ریاستی جبر سے متاثر لوگوں کے وہ چند تکلیف دہ جملے دہرائے جانے سے ہی پوری تصویر واضح ہوجاتی ہے اور نسل کشی اور گھٹن کا مکمل مفہوم سمجھا جا سکتا ہے. ایک تصویر جس میں ایک غالباً جاپانی لڑکے نے اپنے چھوٹے بھائی کی مردہ جسم کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا ہے اور میلوں کا سفر طے کر کے سپاٹ اور جزبات سے عاری چہرے کے ساتھ پوچھنے پر کہ یہ مردہ بچہ کون ہے اس کا جواب ہوتا ہے یہ مردہ نہیں بلکہ میرا بھائی ہے وہ لفظ مردہ الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے یہ تصویر دنیا میں ہلچل مچا دیتی ہے وائرل ہو جاتی ہے ایسے ہی بلوچستان میں سینکڑوں تصاویر اور جملے ہیں جو دل دہلا دیتے ہیں دماغی خلیوں کو کچل دیتے ہیں ایسے جملوں کو سننے کے بعد سننے والے کی جو کیفیت ہوتی ہے اندازہ لگائیں جن پہ گزرتی ہے جو یہ تکلیف دہ جملے ادا کرتے ہیں وہ جب تک زندہ ہیں وہ کیسے لمحہ بہ لمحہ اذیت سے گزرتے ہیں وہ موت تک کسطرح جیتے ہیں. ہر ایک اذیت بھری سانس وہ کیسے لیتے ہیں۔

1 پہلا جملہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک ایمبولینس میں ایک تابوت رکھی ہوئی ہے ایک خاتون جو تابوت میں رکھے خون آلود پچکے گالوں زرد چہرے والے بے جان جسم کی ماں ہے نے تابوت ایسے پکڑ رکھی ہے جیسے وہ مردہ جسم کی بجائے ایک زندہ ثابت سانس لیتے ہنستے مسکراتے بچے کو گلے لگا رکھی ہے. پولیس والا پوچھتا ہے یہ "لاش کس کی ہے؟

خاتون جواب دیتی ہے ” یہ میرا بیٹا ہے ”
وہ لفظ لاش کو نظر انداز کر دیتی ہے. کیا وہ میرا بیٹا کہہ کر وہ اس مردہ جسم میں زندگی ڈالنے کی کوشش کرتی ہے؟کیا اسے خوشی ہے کہ برسوں تاریک کوٹھڑیوں میں اذیت سے سانس لیتا جبری گمشدگی کا شکار بیٹا اب اس کے بغل میں ہے؟ کیا اس جملے میں پوشیدہ خوشی غم اور تکلیف و اذیت بھرے جزبات اور کیفیت کو قلمبند کیا جا سکتا ہے؟کیا کوئی نفسیات کا ماہر اس خاتون کے دماغ سے اس غم زدہ کربناک کیفیت کو یکسر مٹانے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟

اس تابوت میں بند لاش کو وہ اپنے گاؤں لیجاکر سپرد خاک کریگی. کوئٹہ سے کتنے کلومیٹر دور لے جائیگی؟ اور ہر جگہ کسی کھڈے سے جھٹکے کھاتی گاڑی میں پڑی تابوت میں بند لاش کو وہ کیسے سنبھالے گی؟ کیا گاڑی میں ایک لاش ہے؟ نہیں دو لاشیں ہیں. ایک جوان بیٹے کی لکڑی کے تابوت میں بند لاش کو وصول کرتی ماں کو زندہ کہا جا سکتا ہے؟ دفن سے پہلے آخری دیدار پر بین کرتے بہنوں بھائیوں بچوں بیوی کو یہ ماں تسلی دے گی؟ پرسہ دینے کے لیے آنے والوں کے ہر سوال پر وہ بیٹے کو دفن کرنے جیسے الفاظ سے کیسے کترائے گی؟ جب پولیس والے نے لاش کہا تو ماں نے کہا میرا بیٹا ہے. رشتہ دار ہمسائے جب پوچھیں گے کہ میت کس نے وصول کیا؟ کتنی گولیاں ماری گئی تھیں؟ تو کہا کہے گی کیسے جوابات دے گی. بیٹے کی میت کی وصولی اور دفن کے بعد کتنے دن زندہ رہی یازندہ تھی بھی کہ نہیں؟ ریاست کے بارے میں اس کے خیالات کیا تھے؟

2دوسرا جملہ
بلوچستان کے علاقے خاران میں بارہ سال پہلے ایک نوجوان کی شادی ہے شادی والے روز وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ بازار جاتا ہے ریاستی فورسز اسے اور اس کے دوست کو گولیاں مار کر ان دونوں کو چھلنی کر دیتے ہیں گھسا پٹھا ریاستی بیانیہ کاپی پیسٹ کر کے صرف نوجوان کا نام بدل دیا جاتا ہے کہ مسلح تھے فورس کو دیکھ کر بھاگ رہے تھے فائرنگ کے مقابلے میں مارے گئے. لاشیں گھروں کو پہنچتی ہیں جس کی اسی روز شادی ہے اس کی میت کو غسل دیتے وقت اس کی والدہ کہتی ہے۔

"ہاتھوں سے خون صاف ہوگئی باقی جو رنگ ہے وہ مہندی کی ہے”
کرب تکلیف ماتم خوشی آپس میں مدغم ہوجاتے ہیں بچیوں کو جو شادی کی خوشی میں دفلی بجا رہے ہوتے ہیں انھیں منع کیا جاتا ہے. ان بچیوں کے جزبات کیسے بیان کیے جاہیں؟ دلہن کے ہاتھوں پر جو مہندی لگی ہے وہ ریاست کے نیکروپالیٹیکس کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لیے نفرت نہیں بن گئی؟

3 تیسرا جملہ
بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے آپسر میں 15 اگست 2020 کو ایف سی کے اہلکاروں نے حیات بلوچ نامی نوجوان کو ان کے والد مرزا بلوچ اور والدہ کے سامنے آٹھ گولیاں ماری گئیں. حیات کی خون میں لت پت لاش والد اور والدہ کی گود میں رکھی ہوئی ہے اور والدہ ہاتھ اوپر اُٹھائے آسمان کیطرف دہائی دے رہی ہے. اس عکس میں شامل درد اور تکلیف کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے. حیات کی والدہ بار بار کہہ رہی تھیں انھوں نے میرے بیٹے کو آٹھ گولیاں ماریں. حیات یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور چھٹیوں پر گھر آئے والدین کیساتھ کھیتی باڑی میں مدد دے رہے تھے جب انھیں قتل کیا گیا تب ان کے ہاتھ میں بیلچہ اور درانتی بھی نہیں تھی. ابتداء میں ریاست کے اداروں کی جانب سے یہ جھوٹا بیان ترتیب دیا گیا کہ حیات بلوچ کو فورسز نے اپنے دفاع میں قتل کیا لیکن حیات بلوچ کے ہاتھوں میں فورسز کو نقصان پہنچانے والی کوئی شے نہیں تھی وہ مکمل نہتے تھے اور جب انھیں گولیاں ماری گئیں تو ان کے والدین بھی ساتھ تھے والدہ کی دہائی دیتی آسمان کی طرف بلند کی گئی ہاتھوں کی تصویر اور یہ جملہ کہ انھوں نے حیات کو آٹھ گولیاں ماریں. ماں ایک ایک گولی اپنے لخت جگر کے بدن میں پیوست ہونے کی آواز کس کرب سے سنتی ہو گی؟ حیات ماں کی گود میں سر رکھ کر آخری سانس لینے کے عکس کو اپنے بند ہوتے آنکھوں میں محفوظ کر کے فائدے میں رہا کرب و تکلیف تو ریاست نے حیات کے ماں کی یادداشت میں نقش کردیئے ہر گولی جو حیات کو لگی اس ہر گولی کیساتھ وہ مرتی رہی. حیات کی ہر اکھڑتی سانس کے ساتھ وہ مرتی رہی. اسی روز ہی مرگئی اس ایک جملے کے ساتھ وہ زندہ نہ رہی بعد میں چاہے وہ کتنی دیر اپنا بدن گھسٹیتی رہے۔

ایک اور واقعہ بھی بیان کیا جائے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ بلوچستان میں تمام طبقے سردار نواب ملازم طالب علم کسان اور چرواہا سب ریاستی جبر کے نشانے پر ہیں اس جبر وبربریت سے کسی کو بھی استثنا حاصل نہیں ہے۔

نواب اکبر خان بگٹی جو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور گورنر اور وفاقی وزیر بھی رہے ریاستی اداروں اور فورسز کو یہ ناگوار گزری کہ ان کے لہجے میں تلخی کیوں آگئی ہے وہ حق حقوق ہمارا ساحل اور ہمارے وسائل کی گردان کیوں کرنے لگے ہیں. مارچ 2005 میں ان کے قلعے پر میزائلوں سے حملہ کیا گیا اس کے ایک سال بعد انھیں ڈیرہ بگٹی کے علاقے تراتانی میں ایک غار میں میزائلوں سے حملہ کر کے مارا گیا بلوچستان بلکہ دنیا میں نامور حیثیت کے اس بلوچ سردار کو مارنے کے بعد قفل لگے ایک تابوت کو چند لوگوں کی موجودگی میں دفن کیا گیا. ریاست جھوٹ پر جھوٹ بولتی رہی طاقت کے نشے سے ریاست کے جرنل اس بات پر اڑے رہے کہ اکبر خان سے بات کرنے جارہے تھے کہ غار گر گئی اور وہ غار کے اندر دب گئے گھڑی اور عینک ریاستی میڈیا پر دکھائی گئی اور قفل لگی تابوت کو دفن کر کے کہا گیا کہ یہی اکبرخان بگٹی تھے اس بات پر یقین کرو یا نہیں یہ ریاست کا مسئلہ نہیں. آج بیس سال بعد بھی وہ علاقہ اسی طرح ظلم وبربریت کی زد میں ہے۔

جس طرح ابتدا میں کہا کہ بلوچستان کی مخدوش صورتحال نسل کشی اور جبر کی مکمل عکاسی کرتی ہے. جبری گمشدگیوں کا سلسلہ دو دہائیوں سے جاری ہے سیاسی آوازوں پر قدغن ہے. تعلیمی اداروں میں ریاستی فورسز براجمان ہیں. تحریر و تقریر پر مکمل پابندی ہے. سوشل میڈیا جو جدید دور کی آواز ہے جب چاہے ریاست بند کردیتی ہے. سماجی حقوق کے لیے آواز بلند کرنیوالوں پر ریاست مخالف سرگرمیوں کی چھاپ لگا کر خاموش کردیے جاتے ہیں. سیاسی کارکنوں اور سماجی اثر رسوخ رکھنے والوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے. بلوچ طلباء کا تعلیمی اداروں میں پروفائلنگ کی جاتی ہے الغرض ایک مکمل گھٹن اور جبر ہے اور ریاست اس بات پر زور دیتی ہے کہ ریاست کے جھوٹے بیانیے کو تسلیم کیا جائے۔

نسل کشی اور ایک قوم کی موت پر زبانیں گنگ
اور چشم بند کیے جاہیں درد اور تکلیف سے چیخنے کی بجائے بلند آواز قہقہے بلند کیے جاہیں. ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پنجگور: تیل بردار گاڑی پل سے گرنے کے بعد آگ لگنے سے دو افراد ہلاک

پیر جنوری 26 , 2026
بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ٹریفک حادثے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ واقعہ پنجگور کے علاقے لشکران کور گوران میں پیش آیا جہاں ایک تیل بردار گاڑی بے قابو ہو کر پل سے نیچے جا گری۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق گاڑی پل سے گرنے کے فوراً بعد […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ