
کوئٹہ میں خون جما دینے والی سردی کے باوجود بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام احتجاجی کیمپ آج بروز جمعہ بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری رہا۔ احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6,057ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے مرکزی سیکرٹری حوران بلوچ سمیت دیگر رہنما اور لاپتہ افراد کے لواحقین بھی موجود تھے۔ مظاہرین نے شدید سرد موسم کے باوجود اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور احتجاج کیا۔
وی بی ایم پی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور لاپتہ بلوچ افراد کو فیک انکاؤنٹرز میں ماورائے عدالت قتل کرنے کے واقعات کا مکمل سدباب کیا جائے۔ انہوں نے تمام لاپتہ افراد کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ جب تک لاپتہ افراد کو بازیاب کروا کر انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ وی بی ایم پی کے مطابق یہ احتجاج انسانی حقوق کی پاسداری، قانون کی بالادستی اور متاثرہ خاندانوں کو جبری گمشدگیوں کے کرب سے نجات دلانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
