معرکہِ خاران میں شہید ہونے والے سرمچاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ معرکہ خاران میں دو بدو لڑائی کے دوران 15 جنوری کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے چار سرمچار شہید ہو کر وطن پر قربان ہوئے، جنہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ شہید کپٹن مبین عرف ملا رحمین ولد محمد یعقوب، سکنہ مستونگ کاریز نوتھ، ایک انتہائی مخلص اور تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان تھا۔ آپ نے 2020 میں شہری گوریلا کی حیثیت سے بی ایل ایف جوائن کی۔ آپ شہری گوریلا فنون سے بخوبی آشنا ایک سرمچار تھے۔ 2022 میں تنظیمی فیصلے کے تحت باقاعدہ طور پر پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ قلات، مستونگ، خاران، نوشکی اور کوئٹہ میں دشمن فورسز کے خلاف متعدد اہم مشنز میں فرنٹ لائن سرمچار کے طور پر کردار ادا کرتے ہوئے انہیں کامیاب بنایا۔ ان علاقوں میں شہید کپٹن مبین بلوچ نے بی ایل ایف کو فعال بنانے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ معرکہ خاران کو کامیابی سے ہمکنار کرکے پہاڑی سلسلے میں داخل ہونے کے بعد کیپٹن مبین عرف ملا رحمین دشمن فورسز کے ڈرون حملے میں شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرازق بلوچ عرف بارگ جان ولد نبی بخش، سکنہ راسکوہ خاران، نے 2023 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ وہ شہید میرل عرف نثار جان کے بھتیجے تھے۔ آپ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوان تھے اور اوتھل یونیورسٹی سے گریجویشن کر چکے تھے۔ شہید بارگ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ذیلی ادارے قربان یونٹ کے سرگرم رکن تھے۔ خاران معرکے کے دوران ریڈ زون میں بحیثیت ٹیم کمانڈر اپنے دستے کی قیادت کی۔ انہوں نے خاران آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے انتہائی بہادری اور مہارت کے ساتھ لڑتے ہوئے دشمن فوج کو شدید نقصان پہنچایا اور جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنگت حفیظ بلوچ عرف یاسر ولد کاکا پیر جان، سکنہ ہارونی، مشکے، نے ایک سال قبل بلوچستان کی آزادی کے لیے بلوچستان لبریشن فرنٹ کا انتخاب کیا۔ شہید کے اہلِ خانہ قومی آزادی کی تحریک میں انتہائی سرگرم رہے ہیں اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران قابض ریاستی اداروں کے ہاتھوں شدید تکالیف اور مشکلات کا سامنا کیا جن میں جبری بے دخلی بھی شامل ہے۔ تاہم قومی آزادی کے پروگرام سے دستبردار ہونے کے بجائے وہ مزید مضبوط اور منظم ہو کر بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ساتھ جڑے رہے۔ شہید یاسر جان نے خاران معرکے میں اہم جنگی کارنامہ سرانجام دیا اور تنظیمی ساتھیوں کے دفاع اور خاران آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے قربان یونٹ کا انتخاب کیا اور صفِ اوّل میں رہے۔ خاران کلان میں قابض فوج سے دو بدو لڑائی کے دوران دشمن کا اسلحہ قبضے میں لینے کے دوران دشمن کی گولی لگنے سے شہید ہوئے۔ ترجمان نے کہا کہ سرمچار محسن بلوچ عرف مرید ولد محمد نور، سکنہ کلیڑ مشکے، کچھ عرصہ قبل بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شامل ہوئے اور پہاڑی محاذ کا انتخاب کیا۔ وہ خاران معرکے میں شریک ہوئے۔ شہید محسن کے اہلِ خانہ کی بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں قربانیاں بے مثال رہی ہیں۔ اس سے قبل ان کے دو بھائی، عبدالطیف اور نصراللہ، دشمن فورسز کے ہاتھوں شہید ہو چکے تھے، لیکن ان تمام تر سختیوں کے باوجود تحریک کے ساتھ جڑے رہنا اس خاندان کی حب الوطنی اور قومی جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔ شہید محسن خاران معرکے کو کامیاب کرانے کے بعد پہاڑی سلسلے میں دشمن فوج کے ڈرون حملے میں شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ معرکہ خاران میں شہید ہونے والے سرمچاروں کو سلام اور خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچ شہدا کے ارمان آزاد بلوچستان کے عظیم مقصد کو حاصل کرنے تک جدوجہد جاری رکھا جائے گا۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بٹالین: انسان، وقت اور آزمائش کا ناول

اتوار جنوری 18 , 2026
تحریر : دلجان بلوچ ناول بٹالین دراصل انسان اور وقت کے باہمی تصادم کی کہانی ہے۔ یہ ایک ایسا متن ہے جو قاری کو کسی ایک واقعے یا ایک معرکے میں قید نہیں کرتا بلکہ اسے ایک پورے عہد کے کرب، اضطراب اور سوالات سے روشناس کراتا ہے۔ اس ناول […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ