شور پارود میں چار سرمچار وطن کی دفاع میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ بی ایل اے

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا ہے کہ قلات کے علاقے شور پارود میں بارہ جنوری کو قابض پاکستانی فوج نے بلوچ لبریشن آرمی کے ایک عارضی گشتی کیمپ پر ڈرون حملہ کیا، جس میں تنظیم کے چار جانباز سرمچار سنگت زوہیر عرف حق نواز، منظور کرد عرف بختیار چیتا، سمیع اللہ عرف جاوید پھلیہ اور نصیر احمد عرف میرک شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ شہید سنگت زوہیر عرف حق نواز بلوچ ولد محمد افضل فقیرزئی کا تعلق نوشکی کے علاقے احمد وال سے تھا۔ آپ 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوگئے اور اپنی صلاحیتوں کے باعث ایک سال کے دوران ٹریننر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی۔ سنگت زوہیر نے مستونگ، قلات اور نوشکی کے محاذوں پر خدمات سرانجام دیئے۔

انہوں نے کہا کہ سنگت زوہیر تنظیم کے اندر نظم و ضبط اور عسکری مہارت کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ آپ نوجوان سرمچاروں کی نظریاتی تربیت پر خاص توجہ دیتے تھے۔

ترجمان نے کہا کہ شہید سنگت منظور کرد عرف بختیار چیتا ولد محمد رحیم کرد کا تعلق کوئٹہ کے علاقے برما ہوٹل سے تھا۔ بائیس سالہ منظور کرد 2016 میں بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے اور بطور شہری گوریلا خدمات سرانجام دیئے، بعدازاں وہ 2018 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے۔ آپ نے بولان، ناگاہو اور قلات کے علاقوں میں محاذوں پر خدمات سرانجام دیئے۔

انہوں نے کہا کہ سنگت منظور کرد کے بھائی محی الدین عرف سنگت نجیب 2016 میں بولان کے علاقے یخو میں شہید جنرل اسلم بلوچ پر ہونے والے حملے کے دوران قابض پاکستانی فوج کے کمانڈوز کے ساتھ دو بدو لڑائی میں شہید ہوئے تھے، جبکہ ان کے خاندان کے متعدد افراد کو قابض فوج بطور اجتماعی سزا جبری گمشدگیوں اور چھاپوں میں مسلسل نشانہ بناتا رہا۔ تاہم سنگت منظور کرد آخری سانس تک آزادی کے موقف پر قائم رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید سنگت سمیع اللہ عرف جاوید پھلیہ ولد دینار خان کیازئی کا تعلق بولان کے علاقے مچھ سے تھا۔ وہ 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے اور بولان و قلات کے محاذوں پر خدمات سرانجام دیئے۔ ایک مختصر مدت میں ہی آپ تنظیم کیلئے ایک اثاثہ ثابت ہوئے اور آپ اپنی ہمہ جہت کردار کے باعث سرمچاروں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ شہید سنگت نصیر احمد عرف میرک ولد نبی بخش سمالانی کا تعلق شاہرگ سے تھا۔ آپ دو سال قبل بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے اور بولان و قلات کے محاذوں پر خدمات سرانجام دیئے۔ سنگت میرک محاذی نظم و ضبط اور ذمہ داری کی مثال سمجھا جاتا تھا۔ آپ کے ایک بھائی سنگت خیر بخش سمالانی عرف فرید نومبر 2022 میں بولان کے محاذ پر قابض فوج سے طویل جھڑپوں کے دوران آخری گولی کے فلسفے کو اپناتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اپنے شہید سرمچاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ دوبارہ کرتی ہے کہ شہداء کے لہو کا عوض انکے مقصد کے حصول کی صورت حاصل کریگی۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سبی میں قابض فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی

اتوار جنوری 18 , 2026
بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرمچاروں نے سبی میں قابض پاکستانی آرمی کے کینٹ کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں سرمچاروں نے کینٹ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے فائر […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ