خواتین کی جبری گمشدگیاں بلوچ معاشرے کی اجتماعی وقار پر حملہ ہے۔ ڈاکٹر شلی بلوچ

بلوچ وومن فورم کے سربراہ ڈاکٹر شلی بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ایک بار پھر تشویش ناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ پنجگور کی رہائشی فاطمہ بلوچ زوجہ نوروز اسلام کو 13 جنوری 2026 کی شب حب چوکی کے علاقے اکرم کالونی سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی سائیٹ ایکس ( سابقہ ٹویٹر) پر ایک اپنی طویل پوسٹ میں معروف سیاسی رہنما نے کہا کہ بلوچ عوام کے لیے جبری گمشدگیاں کوئی نیا المیہ نہیں، تاہم حالیہ برسوں میں خواتین کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق سال 2025 کے دوران کم از کم 12 بلوچ خواتین جبری طور پر لاپتہ ہوئیں جن میں سے ایک خاتون بعد ازاں قتل شدہ حالت میں پائی گئی، پانچ خواتین کو شدید ذہنی و جسمانی تشدد کے بعد رہا کیا گیا جب کہ چھ خواتین تاحال لاپتہ ہیں اور ان کے اہلِ خانہ ان کی بازیابی کے منتظر ہیں۔

ڈاکٹر شلی بلوچ نے مذید کہا کہ ماہرین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کی جبری گمشدگی نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بلوچ معاشرے کی سماجی ساخت، روایات اور اجتماعی وقار پر براہِ راست حملہ بھی ہے۔ ان حلقوں کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ایک طویل سماجی صدمہ بن چکی ہیں جس کے اثرات نئی نسل تک منتقل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے فاطمہ بلوچ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی گرفتاری اور حراست بغیر کسی قانونی عمل کے غیر آئینی، غیر اخلاقی اور ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف قانون کی بالادستی کے دعوؤں کو کمزور کرتے ہیں بلکہ پارلیمان اور عدلیہ کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔

سیاسی رہنما نے ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ فاطمہ بلوچ سمیت تمام لاپتہ بلوچ خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے شفاف اور مؤثر اقدامات کیے جائیں

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

گوادر اور مضافاتی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

جمعرات جنوری 15 , 2026
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں جمعرات کی شب رات 1 بج کر 55 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ جھٹکوں کے باعث شہری خوفزدہ ہو گئے اور کئی لوگ کلمۂ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ ابتدائی اطلاعات […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ