
ماہرین اور عینی شاہدین کے مطابق ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہرے 1979 کے انقلاب کے بعد اپنی نوعیت کے سب سے بڑے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ متعدد بڑے اور چھوٹے شہروں میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر ہے جبکہ مطالبات اب براہِ راست نظام کی تبدیلی تک پہنچ چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی تو امریکہ “مدد کے لیے تیار ہے”۔ اس کے جواب میں ایرانی حکام نے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم Human Rights Activists in Iran کے مطابق اب تک 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 1600 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ تاہم Reuters نے کہا ہے کہ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
ماہرین کے مطابق مظاہروں کا پھیلاؤ غیر معمولی ہے اور یہ چھوٹے شہروں تک پہنچ چکے ہیں۔ حالیہ احتجاج کا آغاز معاشی مسائل سے ہوا مگر اب مظاہرین ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور موجودہ حکومت کے خاتمے کے نعرے لگا رہے ہیں۔
یہ مظاہرے حالیہ 12 روزہ جنگ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں اسرائیل اور امریکہ بھی شامل تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے بعد حکومت عوامی اتحاد پیدا کرنے میں ناکام رہی۔
ادھر ایرانی فوج نے ایک بیان میں اسرائیل اور “دہشت گرد گروہوں” پر عوامی سلامتی کو متاثر کرنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے اسٹریٹجک تنصیبات اور سرکاری املاک کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا ہے، جس سے مظاہروں کے دوران فوجی کردار بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں
