
تحریر: دلجان بلوچ
ہم سب آزادی کی تحریک سے وابستہ ہیں، اور جب کوئی فرد اس راستے کا انتخاب کرتا ہے تو وہ صرف ایک تنظیم یا جماعت کا حصہ نہیں بنتا بلکہ ایک پوری قوم کی امیدوں، خوابوں اور قربانیوں کا امین بن جاتا ہے۔ اس مرحلے پر اس کی ذات محض اس کی اپنی نہیں رہتی بلکہ وہ اپنی قوم، اپنے سماج اور اپنی تحریک کی نمائندگی کرنے لگتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کا کردار، اس کے الفاظ اور اس کے اعمال سب اجتماعی مفاد سے جڑ جاتے ہیں۔
آزادی کی تحریک محض نعرے لگانے یا جلسوں میں شرکت کا نام نہیں۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس کا آغاز انسان کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آزادی صرف بیرونی جبر کے خاتمے کا نام ہے، وہ دراصل جدوجہد کے اصل مفہوم کو نہیں سمجھ پاتے۔ حقیقی آزادی کا پہلا مرحلہ فکری آزادی ہے، یعنی تعصب، ذاتی مفاد، انا اور وقتی فائدے سے نجات۔
تحریک سے وابستہ فرد کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ وہ سماج اور عوام کی طرف سے منتخب ہوتا ہے۔ چاہے یہ انتخاب رسمی ہو یا غیر رسمی، حقیقت یہی ہے کہ لوگ اس کے کردار سے تحریک کو جانچتے ہیں۔ اگر اس کا رویہ سخت، غیر ذمہ دار یا اخلاقی اقدار سے خالی ہو تو اس کا نقصان صرف اس کی ذات کو نہیں بلکہ پوری تحریک کو پہنچتا ہے۔ اسی لیے ایک کارکن کا اخلاق، برداشت، سچائی اور دیانت تحریک کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔
اصلاح کا عمل ہمیشہ خود احتسابی سے شروع ہوتا ہے۔ ہر کارکن کو وقتاً فوقتاً اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا اس کے اعمال واقعی قوم کی آزادی کے لیے ہیں یا وہ نادانستہ طور پر ذاتی تشہیر، غصے یا ضد کا شکار ہو رہا ہے۔ کیا اس کی زبان اتحاد پیدا کر رہی ہے یا نفرت اور تقسیم؟ کیا اس کا طرزِ عمل عوام کے لیے مثال بن رہا ہے یا مایوسی کا سبب؟
آزادی کی تحریک میں نظم و ضبط کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ جذبات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جذبات اگر شعور اور حکمت کے بغیر ہوں تو وہ تحریک کو کمزور بھی کر سکتے ہیں۔ ایک تربیت یافتہ کارکن وہ ہوتا ہے جو مشکل حالات میں بھی صبر، تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرے۔ وہ اشتعال انگیزی سے بچتا ہے اور اختلاف رائے کو دشمنی میں بدلنے نہیں دیتا۔
اسی طرح علم اور شعور بھی تحریک کی بنیاد ہیں۔ جو کارکن اپنی تاریخ، اپنے مقصد اور اپنے نظریے سے واقف نہیں، وہ آسانی سے گمراہ ہو سکتا ہے۔ مطالعہ، مکالمہ اور سیکھنے کا عمل کبھی نہیں رکنا چاہیے۔ ایک باشعور کارکن نہ صرف خود مضبوط ہوتا ہے بلکہ دوسروں کی بھی رہنمائی کر سکتا ہے۔
قربانی آزادی کی تحریک کا لازمی جزو ہے۔ یہ قربانی صرف جان یا مال کی نہیں ہوتی بلکہ وقت، آرام، ذاتی خواہشات اور بعض اوقات اپنی رائے کو اجتماعی فیصلے کے سامنے قربان کرنے کی بھی ہوتی ہے۔ جو شخص اس قربانی کے لیے تیار نہیں، اسے اپنے آپ سے ایمانداری کے ساتھ سوال کرنا چاہیے کہ آیا وہ واقعی اس راستے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ آزادی کی جدوجہد ایک طویل سفر ہے۔ اس میں مایوسی کے لمحے بھی آئیں گے، اختلافات بھی ہوں گے اور آزمائشیں بھی۔ ایسے میں ایک سچا کارکن وہی ہوتا ہے جو ثابت قدم رہے، اپنی اصلاح کرتا رہے اور مقصد کو کبھی نظر سے اوجھل نہ ہونے دے۔ جب ہر فرد اپنی ذات کی اصلاح کو تحریک کی اصلاح سمجھے گا تو وہ دن دور نہیں جب قوم آزادی کی منزل کے قریب پہنچ جائے گی۔
یہی شعور، یہی تربیت اور یہی خود احتسابی آزادی کی تحریک کو مضبوط بناتی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک باوقار، آزاد اور انصاف پر مبنی سماج کی طرف لے جاتا ہے۔
