
کراچی کے معروف کتب بازار اردو بازار میں واقع اشاعتی ادارہ علم و ادب کے مرکزی دفتر کے رکن چنگیز بلوچ 165 دنوں کی جبری گمشدگی کے بعد بازیاب ہو گئے ہیں، جس پر اہلِ خانہ، دوستوں اور ادبی حلقوں نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چنگیز بلوچ کو گزشتہ سال 21 جولائی کو اس وقت جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا جب وہ اردو بازار میں اپنی دکان پر کتابوں کی فروخت میں مصروف تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق انہیں پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا، جس کے بعد ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا تھا۔
چنگیز بلوچ کی طویل جبری گمشدگی کے دوران اہلِ خانہ شدید ذہنی کرب اور اضطراب کا شکار رہے، جبکہ ادبی و سماجی حلقوں کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے مسلسل آواز اٹھائی جاتی رہی۔ 165 دن بعد ان کی بازیابی کو جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ علم و ادب کراچی کا ایک معروف اشاعتی ادارہ ہے جو اردو، بلوچی اور دیگر علاقائی زبانوں میں کتابیں شائع کرتا ہے۔ یہ ادارہ نایاب اور معیاری کتابیں مناسب اور کم قیمت پر فراہم کرنے کے باعث طلبہ، محققین اور ادب سے وابستہ افراد میں خاص مقام رکھتا ہے۔
