
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 31 دسمبر کی شام مشکے کے علاقہ میانی قلات میں قائم قابض پاکستان کے فوج کیمپ پر تین اطراف سے حملہ کرکے بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں کے حملے کے نتیجے میں دشمن فورسز کو کافی جانی اور مالی نقصان پہنچا۔
ترجمان نے کہا کہ جبکہ اسی روز سہ پہر کے وقت سرمچاروں نے مختلف دستوں کی صورت میں مشکے کے علاقوں خالد آباد، میانی قلات اور بانسر میں گشت کرکے عوام سے خطاب کیا، اور عوام کو باور کرایا کہ آزادی کی جدوجہد میں عوام کی حمایت و مدد سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یکم جنوری کی دوپہر کے وقت آواران کے علاقہ بزداد پمپ کے مقام میں قابض فوجی قافلے کی سیکیورٹی پر مامور دو اہلکاروں کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں کی اسنائپر ٹیم نے حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک ہو گیا جبکہ دو گھنٹے بعد اسی علاقے میں تھوڑی دور کنڈور کے مقام پر سرمچاروں نے گھات لگا کر دشمن فوج کے 6 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کے دو گاڑیوں کو ہدف بنایا۔ حملے کے نتیجے میں چار فوجی اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مشکے اور آواران میں قابض پاکستانی فوج کے خلاف تین کارروائیوں میں پانچ اہلکاروں کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
