
تحریر۔ رامین بلوچ
بڑے مقاصد ہمیشہ بڑی اور کٹھن قربانیوں کے متقاضی ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ایسے مقاصد بہت کم لوگوں کے حصے میں آتے ہیں۔ غلامی کے خاتمے کے خلاف جدوجہد دراصل اسی غلامانہ نظام کے بطن سے جنم لیتی ہے، مگر اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے اور فتح سے ہمکنار ہونے کے لیے بے شمار معرکوں، اذیتوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے جو اس راستے میں ناگزیر ہوتی ہیں۔بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں ایسی ہی ایک فیصلہ کن لڑائی جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی بازیابی کی جدوجہد ہے۔ آزادی کی اس تحریک کو کچلنے اور غیر مؤثر بنانے کے لیے قابض نوآبادیاتی قوتوں نے بلوچ سیاسی کارکنان اور قومی تحریک سے وابستہ افراد کو منظم اورمنصوبہ بند انداز میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے۔ حراست میں لیے گئے ان افراد کو برسوں تک خفیہ عقوبت خانوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ بعض کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔
’’مارو اور پھینکو‘‘ کی پالیسی اور جعلی مقابلوں میں گمشدہ افراد کا قتلِ عام گزشتہ پچیس برسوں سے ایک معمول بن چکا ہے۔ حراست میں لیے گئے ایسے افراد پر نہ تو کسی قسم کا کھلا مقدمہ چلایا جاتا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین، خصوصاً جنیوا کنونشن، کے تحت انہیں سیاسی یا جنگی قیدی کا درجہ دیا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کے خاندانوں کو برسوں تک اس بنیادی حقیقت سے لاعلم رکھا جاتا ہے کہ ان کے پیارے کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ نہ انہیں کسی بین الاقوامی عدالتی فورم پر صفائی کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں کسی غیر جانبدار بین الاقوامی جیوری کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ تادمِ تحریر جاری ہے اور اب تک کسی مؤثر احتساب یا انصاف کے بغیر برقرار ہے، جو انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی اقدار کی سنگین اور ناقابلِ تردید خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کا یہ سلسلہ سن 2005 سے جاری ہے۔ ابتدا میں اس تحریک کا آغاز علامتی بھوک ہڑتالوں اور تادمِ مرگ بھوک ہڑتالوں سے ہوا۔ یہی احتجاجی سفر بعدازاں ایک مستقل احتجاجی کیمپ کی صورت اختیار کر گیا، جو سن 2009 سے تاحال قائم ہے اور جس کی مدت چھ ہزار دنوں سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ احتجاجی کیمپ دنیا کے طویل ترین مستقل احتجاجی کیمپوں میں سے ایک منفرد کیمپ ہے، جو گزشتہ سولہ برس سے بغیر کسی تعطل کے جاری ہے۔عبدالقدیر بلوچ، جو عوام میں ماما قدیر کے نام سے معروف ہیں، سن 2009 میں اس المناک سانحے سے دوچار ہوئے جب ان کے بیٹے جلیل ریکی کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ماما قدیر نے جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم وائس فار مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں شمولیت اختیار کی اور اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے ایک طویل، صبر آزما اور پرامن جدوجہد کا آغاز کیا۔اگرچہ ماما قدیر اپنے بیٹے جلیل ریکی کو زندہ سلامت بازیاب کرانے میں کامیاب نہ ہو سکے، اور کئی برس بعد انہیں اس کی تشدد زدہ لاش موصول ہوئی، تاہم اس ناقابلِ بیان ذاتی سانحے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کو محض ذاتی غم تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک اجتماعی اور قومی جدوجہد میں ڈھال دیا، اور دیگر بلوچ فرزندان کی بازیابی کے لیے اپنی مزاحمت کو مسلسل جاری رکھا۔
سن 2013 میں ماما قدیر نے شال (کوئٹہ) سے براستہ کولاچی ایک طویل پیدل لانگ مارچ کا آغاز کیا، جو کولاچی سے ہوتا ہوا اسلام آباد تک پہنچا۔ یہ لانگ مارچ تقریباً چار ماہ پر محیط تھا، جس کے دوران شرکا نے شدید موسمی حالات اور بے شمار مشکلات کے باوجود سینکڑوں میل کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ تاہم اسلام آباد پہنچنے کے باوجود بھی ان کی شنوائی نہ ہو سکی اور ریاستی بے حسی بدستور برقرار رہی۔اس کے بعد سن 2018 میں ماما قدیر نے اپنی آواز کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے امریکہ کا سفر کیا، جہاں قیام کے دوران انہوں نے جنیوا کا بھی دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے جبری گمشدگیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں کے اجلاسوں میں شرکت کی اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، بالخصوص جبری گمشدگیوں، سے عالمی برادری کو آگاہ کیا۔سن 2009 سے شروع ہونے والا یہ احتجاجی سفر ماما قدیر نے بسترِ مرگ تک غیر متزلزل ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھا۔ طویل عرصۂ احتجاج کے دوران وہ بارہا شدید جسمانی عوارض، کمزوری اور بیماری کا شکار رہے، مگر ان کی استقامت میں کبھی لغزش نہ آئی۔ ستر برس سے زائد عمر کے ماما قدیر کو متعدد مواقع پر دھمکیاں دی گئیں کہ وہ احتجاج کا راستہ ترک کر دیں، تاہم دباؤ، خوف اور جبر انہیں اپنے مؤقف سے ہٹا نہ سکے۔اس دوران احتجاجی کیمپ کو کئی بار نذرِ آتش کیا گیا اور اسے ہائی جیک کرنے کی بھی متعدد کوششیں کی گئیں، مگر اس کے باوجود ماما قدیر نہ صرف اپنی جگہ پر ڈٹے رہے بلکہ جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ایک توانا، مسلسل اور علامتی آواز بنے رہے۔ ان کی جدوجہد کسی وقفے کے بغیر ایک ہی تسلسل میں آگے بڑھتی رہی، حتیٰ کہ وینٹی لیٹر تک پہنچنے کے بعد بھی وہ مزاحمت، احتجاج اور حوصلے کی ایک زندہ علامت بنے رہے۔
تاریخِ انسانی اس ناقابلِ تردید حقیقت کی گواہ ہے کہ آزادی، خودمختاری اور قومی نجات کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک کو طاقت، جبر اور استبداد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد بھی اسی تاریخی تسلسل کی ایک کڑی ہے، جس کا سب سے المناک، سفاک اور تاریک باب جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کے نام پر ہونے والا قتلِ عام ہے۔نوآبادیاتی اور نیم نوآبادیاتی ریاستیں محض عسکری تشدد پر اکتفا نہیں کرتیں، بلکہ نفسیاتی، سماجی اور سیاسی حربوں کو بھی منظم انداز میں بروئے کار لاتی ہیں۔ جبری گمشدگی انہی حربوں میں سے ایک ہے، جس کا مقصد صرف مزاحم کارکن کو خاموش کرنا نہیں بلکہ پورے سماج کو خوف، اور دائمی عدمِ تحفظ کی کیفیت میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ پچیس برسوں سے جاری جبری گمشدگیوں کا سلسلہ اب ایک منظم ریاستی دہشت گردانہ پالیسی کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو نوآبادیاتی ریاستی حکمتِ عملی (Colonial State Strategy) کا واضح مظہر ہے۔جبری گمشدگی کی سب سے سنگین اور خطرناک جہت یہ ہے کہ اس عمل میں ریاست اپنے وضع کردہ نام نہاد قوانین کے ساتھ ساتھ عالمی قانونی فریم ورک کو بھی عملاً معطل کر دیتی ہے۔ نہ کسی قسم کی ایف آئی آر درج کی جاتی ہے، نہ شفاف عدالتی کارروائی عمل میں آتی ہے، نہ ملزم کو صفائی کا حق دیا جاتا ہے، نہ وکیل تک رسائی حاصل ہوتی ہے، اور نہ ہی متاثرہ خاندان کو کسی قسم کی اطلاع فراہم کی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی ہے، بلکہ (Rule of Law) کے تصور کی بھی مکمل نفی ہے۔
جبری گمشدگی محض جسمانی گرفتاری یا حراست کا عمل نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی سزا ہے جو پورے خاندان، برادری اور سماج کو اذیت، اضطراب اور مسلسل ذہنی کرب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جب کسی قوم کے نوجوانوں، باشعور اور فعال فرزندان کو منظم انداز میں غائب کیا جاتا ہے، تو درحقیقت اس قوم کے سماجی، فکری اور سیاسی وجود کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔یہ طرزِ عمل محض انفرادی زیادتی نہیں بلکہ ایک منظم، تدریجی اور ساختیاتی نسل کُشی (Genocide) کے دائرے میں آتا ہے۔ جبری گمشدگی کو بین الاقوامی قانون میں ایک نہایت سنگین، ناقابلِ جواز اور انسانیت سوز جرم تسلیم کیا گیا ہے، کیونکہ یہ بیک وقت شخصی آزادی، انسانی وقار اور عالمی قانونی نظام پر براہِ راست حملہ ہے۔اقوامِ متحدہ کی تعریف کے مطابق، جب کسی فرد کو ریاستی ادارے یا ان کے زیرِ اثر ایجنٹس گرفتار کریں، مگر اس گرفتاری کو تسلیم نہ کیا جائے اور جان بوجھ کر اس شخص کے ٹھکانے کو مخفی رکھا جائے، تو یہ عمل جبری گمشدگی کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ اس جرم کی سنگینی اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اس کے نتیجے میں متاثرہ فرد کو قانونی تحفظ سے مکمل طور پر محروم کر دیا جاتا ہے، جس سے تشدد، ماورائے عدالت قتل اور طویل المدتی اذیت کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔اطالوی فلسفی جارجیو آگامبن کے مطابق، جب کوئی ریاست کسی مقبوضہ یا متنازع خطے میں قانون کو معطل کر دیتی ہے تو وہ خطہ ایک ایسے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے جسے وہ ’’اسٹیٹ آف ایکسیپشن‘‘ (State of Exception) قرار دیتا ہے۔ اس کیفیت میں انسانی حقوق اپنی عملی حیثیت کھو بیٹھتے ہیں اور محض رسمی اعلانات تک محدود ہو جاتے ہیں، جبکہ ایک ایسا قانونی خلا جنم لیتا ہے جہاں ریاستی تشدد نہ صرف ممکن بلکہ معمول بنا دیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے مطابق جبری گمشدگی ایک مسلسل جرم (Continuous Crime) ہے، جو اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک متاثرہ فرد کی قسمت اور مقام واضح نہ ہو جائے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق جبری گمشدگی نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بعض حالات میں اسے انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔
اسی طرح جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون واضح طور پر تقاضا کرتے ہیں کہ کسی بھی زیرِ حراست فرد کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھا جائے، اسے قانونی نمائندگی، عدالتی نگرانی اور خاندان سے رابطے کا حق دیا جائے۔ بلوچ جبری گمشدہ افراد کے معاملے میں یہ تمام اصول مسلسل معطل نظر آتے ہیں، جو ریاستی ذمہ داری (State Responsibility) کے ایک سنگین سوال کو جنم دیتے ہیں۔ جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ بلوچ قومی تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لیے اختیار کیا گیا ایک ریاستی کنٹرول میکانزم ہے، جو اجتماعی سزا )کے مترادف ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت صراحتاً ممنوع ہے۔
اس پس منظر میں ماما قدیر محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک کا نام بن گئے جو ریاستی جبر اور نوآبادیاتی تشدد کے مقابل ایک غیر مسلح مگر شعوری مزاحمت کی علامت کے طور پر ابھری۔ وہ بلوچ قومی جدوجہد کے اُن رہنماؤں میں شامل تھے جن کی قوتِ ارادی فولاد سے زیادہ مضبوط تھی۔ جب ان کے بیٹے جلیل ریکی کو جبری طور پر گمشدہ کیا گیا اور بعد ازاں اس کی تشدد زدہ لاش واپس کی گئی تو یہ سانحہ کسی بھی انسان ک توڑنے،و خاموشی، خوف یا پسپائی پر مجبور کرنے کے لیے کافی تھا، مگر ماما قدیر نے اس ذاتی المیے کو محض ذاتی کرب کے طور پر قبول نہیں کیا بلکہ اسے قومی دکھ میں ڈھال دیا۔انہوں نے بڑھاپے، جسمانی کمزوری اور مسلسل اذیت کے باوجود قیادت کی ، سولہ برس تک قائم رہنے والا احتجاجی کیمپ نہ کسی دکان کی توسیع تھا، نہ کسی سرداری بیٹھک یا غیر رسمی نشست کا تسلسل، بلکہ یہ ایک علامتی سیاسی اسپیس تھی جہاں طاقت اور تشدد کے مقابل پرامن، شعوری اور جمہوری مزاحمت نے وجود پایا۔اس طرزِ مزاحمت پر اعتراضات بھی کیے گئے۔ کہا گیا کہ متشدد قوتوں سے انصاف کی بھیک نہیں مانگی جاتی، یہ کیمپ لاحاصل ہے اور ریاستی تشدد کے مراکز کو متاثر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ اعتراضات اپنی منطقی ساخت میں درست ہوں یا غلط، مگر ماما قدیر نے شعوری طور پر گاندھیائی طریقۂ کار کو اختیار کیا اور ریاستی جبر کے مقابل ایک مستقل، پرامن اور اخلاقی دباؤ کی مثال قائم کی۔یہ مزاحمت اگرچہ ریاستی متشدد ڈھانچوں کو فوری طور پر منہدم نہ کر سکی، مگر اس نے ان کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور ضرور کیا۔ ان کا کیمپ دراصل ایک زندہ آرکائیو تھا،ایک ایسی یادداشت گاہ جہاں ہر تصویر، ہر نام اور ہر آنسو ریاستی بیانیے کے خلاف ناقابلِ تردید شہادت میں تبدیل ہو جاتا تھا۔ اسی تناظر میں ماما قدیر کی شخصیت ایک المیاتی ہیرو کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
بلوچستان کی معاصر تاریخ میں اگر کسی ایک فرد نے ریاستی طاقت کے سامنے جبری گمشدگیوں کے سوال کو مسلسل زندہ رکھا تو وہ ماما قدیر بلوچ تھے۔ ایک ایسا باپ جس سے اس کا بیٹا چھینا گیا، تشدد زدہ لاش لوٹائی گئی، اور جس نے تدفین کے بعد ماتم کے بجائے مزاحمت کو اپنا مقدر بنایا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ محض جلیل ریکی کے والد نہیں رہیں گے بلکہ اُن ہزاروں بلوچ خاندانوں کی آواز بنیں گے جن کے بیٹے، بھائی اور شوہر ریاستی حراست کے بعد لاپتہ کر دیے گئے یا مسخ شدہ لاشوں کی صورت واپس کیے گئے۔اگرچہ ماما قدیر کو بارہا نظرانداز کیا گیا، مگر انہوں نے بولنا ترک نہیں کیا۔ انہوں نے جبری گمشدہ افراد کا ڈیٹا مرتب کیا، کیسز کو دستاویزی شکل دی، اور اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز تک پہنچایا۔ وہ عالمی ضمیر کے دروازوں پر مسلسل دستک دیتے رہے۔سب سے باعزم وہ لمحہ ہے جب ماما قدیر بیماری، آئی سی یو اور وینٹی لیٹر تک جا پہنچے، مگر ان کی آواز خاموش نہ ہوئی۔ ان کی جدوجہد آخری سانس تک زندہ رہی۔ انہوں نے جبری گمشدگی کے منظم نظام کو بے نقاب کیا، نام محفوظ کیے، چہروں کو اعداد و شمار میں تبدیل ہونے سے بچایا، اور گمشدگی کو ایک اصطلاح کے بجائے ایک انسانی سانحہ بنا کر پیش کیا۔ احتجاج، مظاہرے اور دھرنے ان کی مزاحمت کے اوزار تھے۔ریاست نے اس آواز کو دبانے کے لیے ہر حربہ آزمایا دھمکیاں، کردار کشی، میڈیا ٹرولنگ اور نفسیاتی دباؤ،مگر ماما قدیر کی جدوجہد ایک نظریے میں ڈھل چکی تھی۔ان کا عزم نہ ٹوٹا، اس کا اسکوپ محدود نہ ہوا، بیماری اور کمزوری ان کے جسم کو تو روک سکتی تھیں، مگر ان کی آواز کو نہیں۔ وہ آخری سانس تک سرینڈر نہ کرنے والا مزاحم انسان تھا۔
ماما قدیر محض ایک نام نہیں، بلکہ بلوچ قومی تحریک کے آسمان پر ابھرنے والی وہ روشن لکیر ہیں جو جبر کی گہری تاریکی میں بھی مٹ نہیں سکتی۔ وہ ایک فرد نہیں تھے، وہ ایک عہد تھےجس میں ، قربانی، صبر اور مزاحمت انسانی وجود میں سمٹ آتے ہین ۔ ماما قدیر نے اپنی زندگی میں ایسے لاتعداد مناظر دیکھے جو کسی بھی حساس دل کو توڑ دینے کے لیے کافی تھے۔ انہوں نے کئی بلوچ فرزندوں کی مسخ شدہ لاشیں دیکھیں وہ اور وہ ہزاروں نوجوان جن کے لوٹ آنے کی امید کبھی حقیقت نہ بن سکی۔ مگر ان تمام سانحات کے باوجود، ماما قدیر نے شکست کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ فرزندون کی بازیابی کی جدوجہد کے پرچم کو نہ صرف تھامے رکھا بلکہ اسے سربلند بھی رکھا، ا ن کی جدوجہد کی عظمت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ جدوجہد غیر مسلح تھی، مگر غیر معمولی طور پر طاقتور۔ وہ یخ بستہ سائبیریا کی ہواؤں میں بھی ثابت قدم رہے اور تپتے ہوئے موسموں میں بھی ان کے قدم نہ لڑکھڑائے۔ ماما قدیر ایک زندہ استعارہ تھے۔ وہ صبر کی علامت تھے، امید کی علامت تھے، اور اس مزاحمت کی علامت تھے جو شکست تسلیم نہیں کیا۔ وہ کسی صلے، کسی اعتراف یا کسی کامیابی کے خواہاں نہ تھے؛ ان کے لیے خود جدوجہد ہی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ماما قدیر نے پوری زندگی جبر سے پاک بلوچ مستقبل پر یقین رکھا۔ اس یقین میں نہ کوئی تذبذب تھا، نہ کوئی پچھتاوا۔ ان کی سانسوں کی روانی ہی ان کے عزم کی دلیل تھی۔ وہ اپنے عمل سے یہ پیغام دے گئے کہ مزاحمت ایک جزوقتی عمل نہیں بلکہ زندگی بھر کا عہد ہوتی ہے۔ کچھ لوگ مرنے کے بعد بھی نہیں مرتے ۔ جب تک نوآبادیاتی جبرط کے خلاف سوال اٹھائے جاتے رہیں گے، جب تک جبری گمشدگیوں کے زخم ہرے رہیں گے، اور جب تک آزادی ایک ادھورا خواب رہے گا۔ماما قدیر کی جدوجہد زندہ رہے گی۔
