
بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بگٹی قبیلے میں “چیف آف بگٹی” کے نام سے کوئی عہدہ موجود نہیں ہے۔ چند روز پہلے جسطرح سرفراز بگٹی کی بطور “چیف آف بگٹی” ایک سرکاری دستاربندی کی گئی ہے اس کی قبائیلی روایات کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔
شیر محمد بگٹی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بگٹی قبیلہ دراصل چھے مختلف شاخوں پر مشتمل قبیلہ ہے جن میں سےمسوری شاخ ایک ہے۔ مسوری آگے مزید تین ٹکروں میں تقسیم ہے جن میں نوحکانی، بشکوانی اور جعفرانی ٹَکّر شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس شخص کو سرکاری طور پر “چیف آف بگٹی” کہا جارہا ہے، وہ مسوری شاخ کے تیسرے ٹکر جعفرانی سے تعلق رکھتا ہے۔ جعفرانی ٹکر میں ٹکری (سربراہی) کا عہدہ ضرور موجود ہےلیکن یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس پر بھی مذکورہ شخص کو جعفرانی شاخ نے قبائیلی روایات کے مطابق منتخب کیا یا وہاں بھی اسے سرکاری طور پر مسلط کیا جارہا ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق جعفرانی ٹکری عہدے کے دوسرے دعویداروں سرفراز بگٹی کے چچازاد بھائی کے بیٹوں کو ریاستی اہلکاروں نے حراست میں رکھ کر ایک ایسے عہدے کی دستار بندی کروائی جو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب سے تعلق رکھنے والا کوئی فوجی افسر سرفراز بگٹی کو کوئی اعزازی عہدہ دینا چاہتا ہے تو بہتر ہے کہ جس طرح اسے ایک کٹ پتلی وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے اسی طرح اسے پنجاب کے کسی چوہدری کا دستار باندھ کر اسے “چیف آف چودھریز” کا عہدہ بخش دے لیکن بلوچ روایات اور بگٹی قبائلی ڈھانچے میں اس طرح کے لوگوں کے لئے کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔
ان کا کہنا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسی ریاست نے ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر بگٹی کو شہید کرنے کے بعد پہلے تو قبائلی نظام کے خاتمے کا اعلان کیا، مگر کچھ عرصے بعد میر عالی بگٹی کو ایک دستار پہنا کر اسے ایک سرکاری نواب بناکر بگٹی قبیلہ پر تھوپنے کی کوشش کی گئی۔ جب اس سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے تو اسے ہٹا دیا گیا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اسی طرح سرفراز بگٹی کو بھی مختلف سرکاری عہدوں اور خودساختہ قبائلی عہدے پر بٹاکر ایک اور تجربہ کیا جارہا ہے۔
