
بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں سیندک اور ریکوڈک پروجیکٹس کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حالیہ حملے کے بعد خاتون حملہ آور زرینہ رفیق عرف ترانگ ماھو کے قریبی رشتہ داروں کو فورسز نے ضلع کیچ سے حراست میں لے لیا، جن کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اہلِ خانہ کے مطابق زرینہ کے والد ماسٹر رفیق کو کیچ کے علاقے تجابان سے جبکہ ان کے چچا خداداد اور منگیتر زبیر کو تربت شہر سے حراست میں لیا گیا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد سے اب تک ان کے بارے میں کسی قسم کی معلومات یا قانونی رسائی فراہم نہیں کی گئی۔
نوکنڈی حملے میں ایک خاتون نے بارود سے بھری گاڑی کمپاؤنڈ کے گیٹ سے ٹکرا کر کارروائی کا آغاز کیا، جس کے بعد دیگر حملہ آور اندر داخل ہوئے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ 36 گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی کے دوران متعدد سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور سیندک و ریکوڈک منصوبوں سے وابستہ غیر ملکی انجینئرز کو یرغمال بنایا گیا۔ تنظیم کے مطابق کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور جلد تفصیلی بیان جاری کیا جائے گا۔
