
بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے خلاف ایم-8 شاہراہ پر مقامی رہائشیوں کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔ دھرنے کے شرکاء نے شاہراہ کو دونوں اطراف سے بند کر رکھا ہے جس کے باعث ٹریفک کی آمدورفت مکمل طور پر معطل ہے اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
گزشتہ شب پیش آنے والے سانحے میں قریبی ایف سی کیمپ سے فائر کیا گیا ایک مارٹر گولہ آبادی کے ایک گھر پر آن گرا۔ دھماکے کے نتیجے میں گھر میں موجود پانچ کمسن بچیاں زخمی ہوئیں، جبکہ شدید زخمی ہونے والی بچی یاسمین بنت ناصر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ واقعے کے بعد مقامی افراد بڑی تعداد میں ایم-8 شاہراہ پر جمع ہو کر احتجاج شروع کر دیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک واقعے میں ملوث فورسز اہلکاروں کو گرفتار نہیں کیا جاتا اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، دھرنا جاری رہے گا۔ ان کے مطابق مارٹر حملہ اور آج صبح فائرنگ کا واقعہ علاقے میں عدم تحفظ میں مزید اضافے کی علامت ہے۔
آج صبح دھرنا گاہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص کے پاؤں میں گولی لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دھرنے کے شرکاء کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر واقعے کی شفاف تحقیقات کرائے، ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو سرکاری سطح پر معاوضہ اور مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔
